(۱۲۸۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی سِنَانُ بْنُ أَبِی سِنَانٍ الدُّؤَلِیُّ وَأَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ : أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّہِ الأَنْصَارِیَّ أَخْبَرَہُمْ أَنَّہُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- غَزْوَۃً قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَفَلَ مَعَہُ فَأَدْرَکَتْہُمُ الْقَائِلَۃُ یَوْمًا فِی وَادٍ کَثِیرِ الْعِضَاہِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِی الْعِضَاہِ یَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- تَحْتَ سَمُرَۃٍ فَعَلَّقَ فِیہَا سَیْفَہُ قَالَ جَابِرٌ فَنِمْنَا نَوْمَۃً فَإِذَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَدْعُونَا فَأَجْبَنَاہُ فَإِذَا عِنْدَہُ أَعْرَابِیٌّ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ ہَذَا اخْتَرَطَ سَیْفِی وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَیْقَظْتُ وَہُوَ فِی یَدِہِ صَلْتًا فَقَالَ : مَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّی؟ فَقُلْتُ: اللَّہُ فَقَالَ ثَانِیَۃً مَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّی فَقُلْتُ : اللَّہُ ۔ فَشَامَ السَّیْفَ وَجَلَسَ فَلَمْ یُعَاقِبْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ فَعَلَ ذَلِکَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصَّغَانِیِّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔
[صحیح۔ مسلم ۸۴۳]
(١٢٨٣٤) جابر بن عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ وہ نجد کی طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ میں گئے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس ہوئے تو وہ بھی ساتھ تھے، ایک دن ایک خاردار درختوں والی وادی میں قیلولہ کا وقت آگیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے اور لوگ بھی درختوں کے سایہ میں پھیل گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی تلوار درخت سے لٹکا دی۔ جابر (رض) کہتے ہیں : ہم سو گئے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بلایا تو ہم نے جواب دیا (گئے) تو دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک دیہاتی کھڑا ہوا تھا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اس نے میری تلوار مجھ پر ہی سونت ڈالی ہے۔ میں اٹھا ہوں تو وہ اس کے ہاتھ میں ہے بغیر میان کے۔ اس نے کہا : آپ کو مجھ سے کون بچائے گا، میں نے کہا : اللہ ! اس نے دوسری دفعہ کہا : آپ کو مجھ سے کون بچائے گا، میں نے کہا : اللہ۔ پس اس نے تلوار میان میں رکھ دی اور بیٹھ گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے بدلہ نہ لیا۔