(۱۲۸۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : کَانَ أَبُو عَزَّۃَ الْجُمَحِیُّ أُسِرَ یَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- یَا مُحَمَّدُ إِنَّہُ ذُو بَنَاتٍ وَحَاجَۃٍ وَلَیْسَ بِمَکَّۃَ أَحَدٌ یَفْدِینِی وَقَدْ عَرَفْتَ حَاجَتِی فَحَقَنَ النَّبِیُّ -ﷺ- دَمَہُ وَأَعْتَقَہُ وَخَلَّی سَبِیلَہُ فَعَاہَدَہُ أَنْ لاَ یُعِینَ عَلَیْہِ بِیَدٍ وَلاَ لِسَانٍ وَامْتَدَحَ النَّبِیَّ -ﷺ- حِینَ عَفَا عَنْہُ۔ فَذَکَرَ الشِّعْرَ ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّتَہُ مَعَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ الْجُمَحِیِّ وَإِشَارَۃَ صَفْوَانَ عَلَیْہِ بِالْخُرُوجِ مَعَہُ فِی حَرْبِ أُحُدٍ وَتَکَفُّلَہُ بَنَاتِہِ وَإِنَّہُ لَمْ یَزَلْ بِہِ حَتَّی أَطَاعَہُ فَخَرَجَ فِی الأَحَابِیشِ مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ قَالَ فَأُسِرَ أَبُو عَزَّۃَ یَوْمَ أُحُدٍ فَلَمَّا أُتِیَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- قَالَ : أَنْعِمْ عَلَیَّ خَلِّ سَبِیلِی فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : لاَ یَتَحَدَّثُ أَہْلُ مَکَّۃَ أَنَّکَ لَعِبْتَ بِمُحَمَّدٍ مَرَّتَیْنِ ۔ فَأَمَرَ بِقَتْلِہِ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
(١٢٨٤١) محمد بن اسحاق کہتے ہیں : ابو عزہ الجہمی بدر میں قیدی بنایا گیا تھا، اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بیٹیوں والا ہوں اور محتاج ہوں اور مکہ میں میرا کوئی ایسا نہیں جو میرا فدیہ دے اور آپ میری حالت پہچانتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا خون محفوظ کیا اور اسے آزاد کردیا اور اس کا راستہ چھوڑ دیا اور وعدہ لیا کہ وہ ہاتھ اور زبان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف مددنہ کرے گا اور اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف کی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے معاف کیا۔ پھر اس نے صفوان بن امیہ کو سارا قصہ بتایا اور اس نے احد کی جگہ میں حصہ لینے کا اشارہ کیا اور اس کی بیٹیوں کی کفالت کا ذمہ لیا اور وہ ہمیشہ کہتا رہا یہاں تک کہ ابو عزہ بنی کنانہ کے پاس لایا گیا اس نے کہا : میرے اوپر انعام کرو، میرا راستہ چھوڑ دو ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : نہیں تاکہ مکہ والے باتیں نہ کریں کہ تو محمد کے ساتھ دو دفعہ کھیلا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔