hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12847

.

سنن البيهقي

12847
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۸۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ َخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ َخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ َخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ َخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ : أَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلاً مِنْ بَنِی عُقَیْلٍ فَأَوْثَقُوہُ فَطَرَحُوہُ فِی الْحَرَّۃِ فَمَرَّ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَنَحْنُ مَعَہُ أَوْ قَالَ أَتَی عَلَیْہِ عَلَی حِمَارٍ وَتَحْتَہُ قَطِیفَۃٌ فَنَادَاہُ: یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ فَأَتَاہُ فَقَالَ: مَا شَأْنُکَ؟ قَالَ: فِیمَا أُخِذْتُ؟ قَالَ: أُخِذْتَ بِجَرِیرَۃِ حُلَفَائِکَ ثَقِیفَ ۔ وَکَانَتْ ثَقِیفُ قَدْ أَسَرَتْ رَجُلَیْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ قَالَ : مَا شَأْنُکَ؟ ۔ قَالَ : إِنِّی مُسْلِمٌ قَالَ : لَوْ قُلْتَہَا وَأَنْتَ تَمْلِکُ أَمْرَکَ أَفْلَحْتَ کُلَّ الفَلاَحِ ۔ قَالَ : وَتَرَکَہُ وَمَضَی قَالَ فَنَادَاہُ : یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ فَرَجَعَ فَقَالَ : مَا شَأْنُکَ؟ ۔ قَالَ : إِنِّی جَائِعٌ فَأَشْبِعْنِی وَأَحْسِبَہُ قَالَ إِنِّی عَطْشَانٌ فَاسْقِنِی قَالَ : ہَذِہِ حَاجَتُکَ ۔ فَفَدَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالرَّجُلَیْنِ اللَّذَیْنِ أَسَرَتْہُمَا ثَقِیفُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ إِسْحَاقَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۶۱۴]
(١٢٨٤٢) عمران بن حصین کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے بنی عقیل کے ایک آدمی کو قیدی بنایا، اسے باندھ کر حرۃ نامی پتھریلی زمین میں پھینک دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس سے گزرے۔ ہم بھی پاس تھے یا کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گدھے پر سوار ہو کر آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نیچے مخمل کی چادر تھی۔ اس نے پکارا : اے محمد ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تیرا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے کہا : مجھے کیوں پکڑا گیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے حلیف ثقیف کے جرم میں تجھے پکڑا گیا ہے اور ثقیف نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) میں سے دو آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ اس نے کہا : اے محمد ! اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے کہا : تیرا کیا معاملہ ہے اس نے کہا : میں مسلمان ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تو نے کہا ہے، اگر اس کا مکمل مالک ہے تو تو مکمل کامیابی پا گیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے وہیں چھوڑا اور چلے گئے اس نے پھر پکارا : اے محمد ! آپ نے لوٹ کر کہا : کیا معاملہ ہے، اس نے کہا : میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلائیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : میں پیاساہوں مجھے پانی پلا۔ اس نے کہا : یہ آپ کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے فدیہ میں ان دو آدمیوں کو لیا جو ثقیف نے قیدی بنائے تھے۔