(۱۲۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْجَرَّاحِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ شَاسَوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ زَمْعَۃَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ الْبَاشَانِیُّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ : لَیْسَ فِی الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ عِنْدَنَا خِلاَفٌ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَسْأَلُنِی عَنِ الْمَسْحِ فَأَرْتَابَ بِہِ أَنْ یَکُونَ صَاحِبَ ہَوًی۔
بَلَغَنِی عَنْ أَبِی بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُنْذِرِ أَنَّہُ قَالَ عُقَیْبَ ہَذِہِ الْحِکَایَۃِ ، وَذَلِکَ إِنَّ کُلَّ مَنْ رُوِیَ عَنْہُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -أَنَّہُ کَرِہَ الْمَسْحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ ، فَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ غَیْرُ ذَلِکَ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَإِنَّمَا بَلَغَنَا کَرَاہِیَۃَ ذَلِکَ عَنْ عَلِیٍّ وَعَائِشَۃَ وَابْنِ عَبَّاسٍ۔
أَمَّا الرِّوَایَۃُ فِیہِ عَنْ عَلِیٍّ أَنَّہُ قَالَ : سَبَقَ الْکِتَابُ الْمَسْحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ۔ وَلَمْ یُرْوَ ذَلِکَ عَنْہُ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ یَثْبُتُ مِثْلُہُ۔
وَأَمَّا عَائِشَۃُ فَإِنَّہَا کَرِہَتْ ذَلِکَ ثُمَّ ثَبَتَ عَنْہَا أَنَّہَا أَحَالَتْ بِعِلْمِ ذَلِکَ عَلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، وَعَلِیٌّ أَخْبَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -بِالرُّخْصَۃِ فِیہِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو نعیم فی الحلیۃ]
(١٢٨٧) (الف) علی باشانی نے مجھے خبر دی کہ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا : ہمارے نزدیک موزوں پر مسح کرنے پر اختلاف نہیں ہے اور جو مجھ سے مسح کے متعلق سوال کرتا ہے تو گویا اس نے شک کیا اور وہ خواہش پرست ہے۔
(ب) محمد بن ابراہیم اس واقعہ کے بعد لکھتے ہیں کہ تمام روایات اس مسئلہ میں جو اصحاب رسول سے منقول ہیں، ان میں موزوں پر مسح کی کراہت کا بیان ہے جبکہ روایات اس کے برعکس ہیں۔ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ یہ کراہت سیدنا علی، عائشہ اور ابن عباس (رض) سے منقول ہے۔ (د) اس مسئلہ میں سیدنا علی (رض) کی روایت ہے کہ کتاب اللہ میں موزوں پر مسح کے متعلق گزر چکا ہے۔ ان سے یہ روایت موصول اسناد سے منقول نہیں ہے۔ (ر) سیدہ عائشہ (رض) اس کو ناپسند کرتی تھیں، پھر انھوں نے یہ بات سیدنا علی (رض) کو بتلائی تو انھوں نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس مسئلہ میں رخصت ثابت ہے۔