(۱۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنُ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ حَدَّثُونَا عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَلَمْ أَسْمَعْہُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: لَمَّا کُنَّا بِالشَّامِ أَتَیْتُ عُمَرَ بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ مِنْہُ ، فَقَالَ: مِنْ أَیْنَ جِئْتَ بِہَذَا؟ فَمَا رَأَیْتُ مَائَ عَدٍّ وَلاَ مَائَ سَمَائٍ أَطْیَبَ مِنْہُ۔قَالَ قُلْتُ: مِنْ بَیْتِ ہَذِہِ الْعَجُوزِ النَّصْرَانِیَّۃِ۔فَلَمَّا تَوَضَّأَ أَتَاہَا فَقَالَ: أَیَّتُہَا الْعَجُوزُ أَسْلِمِی تَسْلَمِی ، بَعَثَ اللَّہُ بِالْحَقِّ مُحَمَّدًا -ﷺ-۔قَالَ: فَکَشَفْتْ رَأْسَہَا فَإِذَا مِثْلُ الثَّغَامَۃِ قَالَتْ: وَأَنَا أَمُوتُ الآنَ؟ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ: اللَّہُمَّ اشْہَدْ۔
[ضعیف: أخرجہ المولف فی المعرفۃ ۴۱]
(١٣٠) زید بن اسلم کے والد کہتے ہیں کہ جب ہم شام میں تھے تو میں سیدنا عمر (رض) کے پاس پانی لے کر آیا، آپ نے اس سے وضو کیا۔ سیدنا عمر (رض) نے پوچھا : تو اس کو کہاں سے لایا ہے ؟ میں نے اس پانی اور آسمان کے پانی کے علاوہ کوئی اچھا پانی نہیں دیکھا۔ زید بن اسلم کے باپ کہتے ہیں : میں نے کہا : اس نصرانی بڑھیا عورت کے گھر سے (لایا ہوں) ۔ جب آپ نے وضو کیا تو اس عورت کے پاس آئے۔ سیدنا عمر (رض) نے کہا : اے بڑھیا عورت ! مسلمان ہوجا تو محفوظ ہوجائے گی، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : اس نے اپنا سر ننگا کیا تو اس کا سر ثغامہ پھول کی طرح سفید ہوچکا تھا، اس عورت نے کہا : اب میں مر جاؤں ؟ راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر (رض) نے کہا : اے اللہ ! تو گواہ ہوجا۔