(۱۳۱) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوجَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ سُوَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-یَتَّقِی أَنْ یَشْرَبَ فِی الإِنَائِ لِلنَّصَارَی۔ فَقَدْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ:تَفَرَّدَ بِہِ إِبْرَاہِیمُ بْنُ یَزِیدَ الْخُوزِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ۔
(ج) قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ:وَإِبْرَاہِیمُ الْخُوزِیُّ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ (ق)ثُمَّ ہُوَ مَحْمُولٌ عَلَی التَّنْزِیہِ بِمَا مَضَی۔
[ضعیف جدًا]
(١٣١) ام المؤمنین سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نصاریٰ کے برتنوں میں پینے سے پرہیز کرتے تھے۔
(ب) ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ ابراہیم بن یزید خوزی ابن أبی ملیکہ سے بیان کرنے میں متفرد ہے۔
(ج) شیخ (رح) کہتے ہیں کہ ابراہیم کی حدیث قابل حجت نہیں۔
(د) پھر یہ روایت جو ابھی گزری ہے نہی تنزیہی پر محمول ہوگی۔