(۱۲۹۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ َخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ َخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ َخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ قَالَ فَکَتَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّکَ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِی ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَغْزُو بِالنِّسَائِ ؟ وَقَدْ کَانَ یَغْزُو بِہِنَّ یُدَاوِینَ الْمَرْضَی وَیُحْذَیْنَ مِنَ الْغَنِیمَۃِ وَأَمَّا السَّہْمُ فَلَمْ یُضْرَبْ لَہُنَّ بِسَہْمٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ حَاتِمٍ۔ [صحیح]
(١٢٩١٣) یزید بن ہرمز نے قصہ بیان کیا کہ ابن عباس (رض) نے اس کی طرف لکھا کہ تو نے مجھ سے سوال کیا ہے کیا عورتیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ میں جاتی تھیں ؟ تحقیق وہ غزوہ میں شریک ہوتی تھیں، مریضوں کو دوا دیتی تھیں اور ان کو غنیمت سے انعام دیا جاتا تھا اور ان کے لیے مقرر حصہ نہ تھا۔