(۱۲۹۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعِیدٍ وَغَیْرُہُ قَالُوا َخْبَرَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ زِیَادٍ قَالَ حَدَّثَنِی حَشْرَجُ بْنُ زِیَادٍ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ أَبِیہِ أَنَّہَا خَرَجَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی غَزْوَۃِ خَیْبَرَ سَادِسَ سِتِّ نِسْوَۃٍ فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَبَعَثَ إِلَیْنَا فَجِئْنَا فَرَأَیْنَا فِیہِ الْغَضَبَ فَقَالَ : مَعَ مَنْ خَرَجْتُنَّ وَبِإِذْنِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟ ۔ فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ خَرَجْنَا نَغْزِلُ الشَّعَرَ وَنُعِینُ بِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَمَعَنَا دَوَائٌ لِلْجَرْحَی وَنُنَاوِلُ السِّہَامَ وَنَسْقِی السَّوِیقَ فَقَالَ : قُمْنَ ۔ حَتَّی إِذَا فَتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ خَیْبَرَ أَسْہَمَ لَنَا کَمَا أَسْہَمَ لِلرِّجَالِ قَالَ فَقُلْتُ لَہَا : یَا جَدَّۃُ وَمَا کَانَ ذَلِکِ؟ قَالَتْ : تَمْرًا۔
قَالَ الشَّیْخُ : إِخْبَارُہَا عَنْ عَیْنِ مَا أَعْطَاہُنَّ دَلاَلَۃٌ عَلَی کَوْنِہِ رَضْخًا وَفِی حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمْ یُضْرَبْ لَہُنَّ بِسَہْمٍ بَیَانُ ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَرُوِیَ عَنْ مَکْحُولٍ وَغَیْرِہِ فِی الإِسْہَامِ لَہُنَّ بِخَیْبَرَ وَہُوَ مُنْقَطِعٌ لاَ تَقُومُ بِہِ حُجَّۃٌ۔ [ضعیف]
(١٢٩١٥) حشرج بن زیاد اپنی دادی سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ خیبر میں گئیں۔ یہ چھ عورتوں میں چھٹی تھیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف پیغام بھیجا کہ ان کو بلاؤ۔ جب ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں۔ ہم نے آپ پر غصہ دیکھا، آپ نے کہا : تم کس کے ساتھ نکلی ہو اور کس کی اجازت سے نکلی ہو ؟ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نکلیں تاکہ ہم شعر کہیں ۔ ہم اس کے ساتھ اللہ کے راستے میں مدد کریں گی اور ہمارے پاس زخموں کے لیے دوائی ہے اور ہم تیر پکڑائیں گی اور ستو پلائیں گی۔ آپ نے کہا : تم قائم رہو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے خیبر پر فتح دی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بھی حصہ دیا جیسے مردوں کو دیا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دادی سے کہا : اے دادی ! وہ کیا تھا ؟ اس نے کہا : کھجوریں۔
شیخ فرماتے ہیں : اس خبر میں جو آپ نے ان کو دیا وہ بطور انعام تھا۔ ان کے لیے حصہ نہ نکالا۔