(۱۲۹۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ حَبِیبَ بْنَ مَسْلَمَۃَ غَزَا الرُّومَ فَأَخَذُوا رَجُلاً فَاتَّہَمُوہُ فَأَخْبَرْہُمْ أَنَّہُ عَیْنٌ فَقَالَ : ہَذَا مَلِکُ الرُّومِ فِی النَّاسِ وَرَائَ ہَذَا الْجَبَلِ فَقَالَ لأَصْحَابِہِ : أَشِیرُوا عَلَیَّ فَقَالَ بَعْضُہُمْ : نَرَی أَنْ تُقِیمَ حَتَّی یَلْحَقَ بِکَ النَّاسُ وَکَانُوا مُنْقَطِعِینَ وَقَالَ بَعْضُہُمْ : نَرَی أَنْ تَرْجِعَ إِلَی فِئَتِکَ وَلاَ تَقْدَمَ عَلَی ہَؤُلاَئِ فَإِنَّہُ لاَ طَاقَۃَ لَنَا بِہِمْ۔ فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَأُعْطِی اللَّہَ عَہْدًا لاَ أَخِیسُ بِہِ لأَخُالِطَنَّہُمْ فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّہَارُ إِذَا ہُوَ بِہِمْ قَدْ مَلأُوا الأَرْضَ فَحَمَلَ وَحَمَلَ أَصْحَابُہُ فَانْہَزَمَ الْعَدُوُّ وَأَصَابُوا غَنَائِمَ کَثِیرَۃً فَلَحِقَ النَّاسُ الَّذِینَ لَمْ یَحْضُرُوا الْقِتَالَ فَقَالُوا : نَحْنُ شُرَکَاؤُکُمْ فِی الْغَنِیمَۃِ وَقَالَ الَّذِینَ شَہِدُوا الْقِتَالَ : لَیْسَ لَکُمْ نَصِیبٌ لَمْ تُحْضُرُوا الْقِتَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ وَکَانَ مِمَّنْ حَضَر مَعَ حَبِیبٍ لَیْسَ لَکُمْ نُصِیبٌ فَکَتَبَ بِذَلِکَ إِلَی مُعَاوِیَۃَ فَکَتَبَ : أَنِ اقْسِمْ بَیْنَہُمْ کُلِّہِمْ قَالَ وَأَظُنُّ مُعَاوِیَۃَ کَانَ کَتَبَ بِذَلِکَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ بِذَلِکَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَالَ الشَّاعِرُ :
إِنَّ حَبِیبًا بِئْسَ مَا یُوَاسِی
لَیْسُوا بِأَنْجَادٍ وَلاَ أَکْیَاسِ
وَابْنَ الزُّبَیْرِ ذَاہِبُ الأَقْسَاسِ
وَلاَ رَفِیقًا بِأُمُورِ النَّاسِ
(١٢٩٣٠) ابن ابی ذئب کہتے ہیں : ہمیں یہ بات پہنچی کہ حبیب بن مسلمہ نے روم کا غزوہ لڑا۔ انھوں نے ایک آدمی کو پکڑا۔ انھوں نے اس پر تہمت لگائی، اس نے خبر دی کہ وہ جاسوس ہے، اس نے کہا کہ روم کا بادشاہ لوگوں کے ساتھ اس پہاڑ کے پیچھے ہے، اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا : تم مجھے کوئی نصیحت کرو۔ بعض نے کہا : ہم تجھے دیکھتے ہیں کہ تو کھڑا رہے یہاں تک کہ لوگ تجھ سے مل جائیں اور بعض نے کہا کہ تو اپنی جماعت کی طرف لوٹ جا اور ان کی طرف نہ آنا، پس ہمیں اس کی طاقت نہیں ہے۔ اس نے کہا : میں اللہ سے وعدہ دیتا ہوں کہ عہد و پیمان نہیں توڑوں گا۔ البتہ میں ان میں رہوں گا، جب دن چڑھا تو وہ زمین پر پھیل گئے، پس اس نے ابھارا اور اپنے ساتھیوں کو بھی ابھارا۔ دشمن کو شکست ہوئی اور ان کو غنیمتیں ملیں۔ پس وہ لوگ ملے جو قتال میں حاضر نہ ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا : ہم بھی غنیمت میں تمہارے شریک ہیں اور جو قتال میں حاضر ہوئے تھے، انھوں نے کہا : تمہارے لیے حصہ نہیں ہے، تم قتال میں حاضر نہیں ہوئے اور عبداللہ بن زبیر نے کہا : جو حاضر ہوئے وہ حبیب کے ساتھ تھے۔ تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں ہے، پس اس نے یہ معاویہ کی طرف لکھا۔ انھوں نے لکھا کہ سب میں تقسیم کر دو ۔ راویکہتے ہیں : میں گمان کرتا ہوں کہ معاویہ نے حضرت عمر (رض) کو لکھا تو عمر (رض) نے یہ جواب دیا۔