hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12949

.

سنن البيهقي

12949
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۹۴۴) فَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ : لَمَّا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ یَوْمَ حُنَیْنٍ مَا أَفَائَ قَسَمَ فِی النَّاسِ فِی الْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوبُہُمْ وَلَمْ یَقْسِمْ أَوْ لَمْ یُعْطِ الأَنْصَارَ شَیْئًا فَکَأَنَّہُ وَجَدَ إِذْ لَمْ یُصِبْہُمْ مَا أَصَابَ أَوْ کَأَنَّہُمْ وَجَدُوا إِذْ لَمْ یُصِبْہُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ فَخَطَبَہُمْ فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْکُمْ ضُلاَّلاً فَہَدَاکُمُ اللَّہُ بِی وَکُنْتُمْ مُتَفَرِّقِینَ فَأَلَّفَکُمُ اللَّہُ بِی وَعَالَۃً فَأَغْنَاکُمُ اللَّہُ بِی ۔ قَالَ کُلَّمَا قَالَ شَیْئًا قَالُوا اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنُّ قَالَ : مَا یَمْنَعُکُمْ أَنْ تُجِیبُوا ۔ قَالُوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنُّ قَالَ : لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ جِئْتَنَا کَذَا وَکَذَا أَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّاۃِ وَالْبَعِیرِ وَتَذْہَبُونَ بِرَسُولِ اللَّہِ إِلَی رِحَالِکُمْ لَوْلاَ الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَکْتُ وَادِیَ الأَنْصَارِ وَشِعْبَہَا الأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ إِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِی أَثَرَۃً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْنِی عَلَی الْحَوْضِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ بخاری ۴۳۳۶]
(١٢٩٤٤) عبداللہ بن زید بن عاصم کہتے ہیں : جب اللہ نے اپنے رسول کو حنین کے دن مال لوٹایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تالیف قلب کے لیے لوگوں میں تقسیم کیا اور انصار کو کچھ نہ دیا۔ ان کو اس کاملال ہوا کہ لوگوں کو جو دیا ہے، ہمیں نہیں دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو خط دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اے انصار کی جماعت ! کیا میں نے تم کو گمراہ نہ پایا تھا۔ پس اللہ نے تم کو میری وجہ سے ہدایت دی اور تم علیحدہ علیحدہ تھے۔ پس اللہ نے تم کو میری وجہ سے ملا دیا۔ تمہیں غنی کردیا۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک ایک جملے پر کہتے تھے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے زیادہ احسان مند ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان باتوں کا جواب دینے میں تمہیں کیا چیز مانع رہی۔ انھوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول کے ہم احسان مند ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم چاہتے تو اس طرح بھی کہہ سکتے تھے ؟ کیا تم راضی نہیں کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے گھروں میں لے جاؤ۔ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک آدمی بن جاتا۔ اگر لوگ کسی گھاٹی یا وادی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار اس کپڑے کی طرح ہیں جو ہمیشہ جسم کے ساتھ رہتا ہے اور دوسرے لوگ اوپر والے کپڑے کی طرح ہیں۔ تم کو میرے بعد دوسروں سے پیچھے چھوڑ دیا جائے گا، پس تم صبر کرنا حتیٰ کہ مجھے حوض پر مل لینا۔