hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12950

.

سنن البيهقي

12950
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۹۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ َخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ أَبِی نُعْمٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الخُدْرِیِّ قَالَ : بَعَثَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ بِالْیَمَنِ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِذُہَیْبَۃٍ فِی تُرْبَتِہَا فَقَسَمَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- بَیْنَ زَیدٍ الطَّائِیِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِی نَبْہَانَ وَبَیْنَ الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِیِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِی مُجَاشِعٍ وَبَیْنَ عُیَیْنَۃَ بْنِ حِصْنٍ وَبَیْنَ عَلْقَمَۃَ بْنِ عُلاَثَۃَ الْعَامِرِیِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِی کِلاَبٍ فَغَضِبَتْ قُرَیْشٌ وَقَالَتْ : یُعْطِی صَنَادِیدَ أَہْلِ نَجْدٍ وَیَدَعُنَا۔ فَقَالَ : إِنَّمَا أَتَأَلَّفُہُمْ ۔ فَجَائَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَیْنَیْنِ نَاتِئُ الْجَبِینِ مُشَرَّبُ الْوَجْنَتَیْنِ کَثُّ اللِّحْیَۃِ مَحْلُوقُ فَقَالَ : اتَّقِ اللَّہَ یَا مُحَمَّدُ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : فَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ إِذَا عَصَیْتُہُ أَیَأْمَنُنِی عَلَی أَہْلِ الأَرْضِ وَلاَ تَأْمَنُونِی ۔ فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَتْلَہُ قَالَ أُرَاہُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ فَمَنَعَہُ فَلَمَّا وَلَّی الرَّجُلُ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ ہَذَا قَوْمًا یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ لاَ یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ یَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ یَقْتُلُونَ أَہْلَ الإِسْلاَمِ وَیَدَعُونَ أَہْلَ الأَوْثَانِ لَئِنْ لَقِیتُہُمْ لأَقْتُلَنَّہُمْ قَتْلَ عَادٍ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ وَالِدِ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۳۴۴]
(١٢٩٤٥) حضرت ابو سعید خدری (رض) نے بیان کیا کہ یمن سے حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سونا بھیجا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کردیا۔ اقرع بن حابس حنظلی، زیدطائی بنی نبہان ، بنی مجاشع اور عیینہ میں حصن میں اور علقمہ بن علاثۃ عامری میں، پھر بنی کلاب میں، پس قریش غصہ میں آگئے اور کہا : آپ نے اہل نجد کے سرداروں کو دے دیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے ان کو تالیف قلب کے لیے دیا ہے، ایک آدمی آیا : جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں پھولے ہوئے کولہے تھے۔ پیشانی اٹھی ہوئی تھی، داڑھی بہت گھنی ہوئی تھی اور سر منڈا ہوا تھا، اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ سے ڈرو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اس کی فرمان برداری کون کرے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے زمین پر مجھے دیانت دار بنا کر بھیجا ہے، کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے ؟ اس شخص کی گستاخی پر ایک صحابی (میرے خیال میں) خالد بن ولید نے اسے قتل کی اجازت چاہی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اس سے روک دیا، پھر وہ شخص وہاں سے چلنے لگا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کی نسل سے ایسے جھوٹے مسلمان پیدا ہوں گے جو قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے، جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو زندہ چھوڑیں گے، اگر میں نے ان کو پا لیا تو ان کو ایسے قتل کروں گا جیسے قوم عاد کا قتل ہوا تھا۔