(۱۲۹۴۹) اَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَہْرِیُّ َخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا افْتُتِحَتْ خَیْبَرُ سَأَلَتْ یَہُودُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یُقِرَّہُمْ عَلَی أَنْ یَعْمَلُوا عَلَی النِّصْفِ مِمَّا خَرَجَ مِنْہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُقِرُّکُمْ فِیہَا عَلَی ذَلِکَ مَا شِئْنَا۔ فَکَانُوا عَلَی ذَلِکَ وَکَانَ الثَّمَرُ یُقْسَمُ عَلَی السُّہْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَیْبَرَ وَیَأْخُذُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْخُمُسَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَطْعِمُ کُلَّ امْرَأَۃٍ مِنْ أَزْوَاجِہِ مِنَ الْخُمُسِ مِائَۃَ وَسْقٍ تَمْرًا وَعِشْرِینَ وَسْقًا شَعِیرًا فَلَمَّا أَرَادَ عُمَرُ إِخْرَاجَ الْیَہُودِ أَرْسَلَ إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُنَّ : مَنْ أَحَبَّ مِنْکُنَّ أَنْ أَقْسِمَ لَہُنَّ نَخْلاً بِخَرْصِہَا مِائَۃَ وَسْقٍ فَیَکُونُ لَہَا أَصْلُہَا وَأَرْضُہَا وَمَاؤُہَا وَمِنَ الزَّرْعِ مَزْرَعَہُ خَرْصِ عِشْرِینَ وَسْقًا فَعَلْنَا وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ نَعْزِلَ الَّذِی لَہَا فِی الْخُمُسِ کَمَا ہُوَ فَعَلْنَا۔ [ضعیف۔ ابوداود ۳۰۰۸]
(١٢٩٤٩) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہود نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ ان کو برقرار رکھیں اس شرط پر کہ وہ نصف پر کام کریں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تم کو برقرار رکھتا ہوں اس شرط پر جب تک ہماری مرضی ہوگی۔ پس وہ اسی شرط پر تھے اور خیبر کے نصف پھل حصوں میں تقسیم ہوتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں سے خمس لیتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیویوں کو خمس سے ایک سو وسق کھجور اور بیس وسق جَو دیتے تھے۔ حضرت عمر (رض) نے جب یہود کو نکالنے کا ارادہ کیا تو ازواج مطہرات کی طرف پیغام بھیجا کہ تم میں سے جس کا جی چاہے میں اس کو اتنے درخت دے دوں، جن میں سے سو وسق کھجور اپنی اصل کے ساتھ اور پانی کے ساتھ دے دوں، اسی طرح کھیتی میں سے بیس وسق جو کے برابر درخت بھی دے دوں اور جو جا ہے گی کہ میں اس کے لیے خمس سے حصہ نکالا کروں گا۔