(۱۲۹۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ : أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ مَعَ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ فِی غَزَاۃٍ غَزَاہَا فَأَصَابُوا سَبْیًا فَأَرَادَ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرَۃَ أَنْ یَعْطِیَ أَنَسًا مِنَ السَّبْیِ قَبْلَ أَنْ یُقْسَمَ فَقَالَ أَنَسٌ : لاَ وَلَکِنِ اقْسِمْ ثُمَّ أَعْطِنِی مِنَ الْخُمُسِ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔وَأَمَّا إِعْطَاؤُہُ یَوْمَ خَیْبَرَ فَفِیمَا۔ [صحیح]
(١٢٩٤٨) ابن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک (رض) ایک غزوہ میں عبیداللہ بن ابی بکرۃ کے ساتھ تھے پس ان کو قیدی ملے۔ عبیداللہ نے تقسیم سے پہلے ہی انس کو ایک قیدی دینے کا ارادہ کیا۔ انس (رض) نے کہا : نہیں بلکہ پہلے تقسیم کرو، پھر خمس سے مجھے دینا۔