(۱۲۹۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ
(ح) وَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبِ بْنِ فُضَیْلٍ التَّاجِرُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمٍ الْمَرْوَزِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو َخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَۃَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ أَنَّ حُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَتْ لِی شَارِفٌ مِنْ نَصِیبِی مِنَ الْمَغْنَمِ یَوْمَ بَدْرٍ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَعْطَانِی شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ یَوْمَئِذٍ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْنِیَ بِفَاطِمَۃَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَاعَدْتُ رَجُلاً صَوَّاغًا مِنْ َیْنُقَاعَ أَنْ یَرْتَحِلَ مَعِی فَنَأْتِیَ بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِیعَہُ مِنَ الصَّوَّاغِینَ فَنَسْتَعِینَ بِہِ فِی وَلِیمَۃِ عُرْسِی فَبَیْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَیَّ مَتَاعًا مِنَ الأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحَبَائِلِ وَشَارِفَایَ مُنَاخَتَانِ إِلَی جَنْبِ حُجْرَۃِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ رَجَعْتُ حِینَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ فَإِذَا شَارِفَایَ قَدِ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُہُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُہُمَا وَأُخِذَ مِنْ أَکْبَادِہِمَا فَلَمْ أَمْلِکْ عَیْنَیَّ حِینَ رَأَیْتُ ذَلِکَ الْمَنْظَرَ مِنْہُمَا فَقُلْتُ: مَنْ فَعَلَ ہَذَا؟ فَقَالُوا : فَعَلَہُ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَہُوَ فِی ہَذَا الْبَیْتِ فِی شَرْبٍ مِنَ الأَنْصَارِ غَنَّتْہُ قَیْنَۃٌ وَأَصْحَابَہُ فَقَالَتْ فِی غِنَائِہَا:
أَلاَ یَا حَمْزَ لِلشُّرُفِ النِّوَائِ وَھُنَّ مُعْقَّلَات بِالْفِنَاء
فَقَامَ حَمْزَۃُ إِلَی السَّیْفِ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَہُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَہُمَا وَأَخَذَ مِنْ أَکْبَادِہِمَا قَالَ قَالَ عَلِیٌّ فَانْطَلَقْتُ حَتَّی أَدْخُلَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَعِنْدَہُ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی وَجْہِی الَّذِی لَقِیتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَاذَا؟ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا رَأَیْتُ کَالْیَوْمِ قَطُّ عَدَا حَمْزَۃُ عَلَی نَاقَتَیَّ وَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَہُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَہُمَا وَہَا ہُوَ ذَا مَعَہُ شَرْبٌ فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِرِدَائِہِ فَارْتَدَی ثُمَّ انْطَلَقَ یَمْشِی وَاتَّبَعْتُہُ أَنَا وَزَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ حَتَّی جَائَ الْبَیْتَ الَّذِی فِیہِ حَمْزَۃُ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَہُ فَإِذَا ہُمْ شَرْبٌ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَلُومُ حَمْزَۃَ فِیمَا فَعَلَ وَإِذَا حَمْزَۃُ ثَمِلٌ مُحْمَرَّۃً عَیْنَاہُ فَنَظَرَ حَمْزَۃُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَی رُکْبَتِہِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَی سُرَّتِہِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَی وَجْہِہِ ثُمَّ قَالَ حَمْزَۃُ : وَہَلْ أَنْتُمْ إِلاَّ عَبِیدٌ لأَبِی۔ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ ثَمِلٌ فَنَکَصَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی عَقِبَیْہِ الْقَہْقَرَی فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ قُہْزَاذَ عَنْ عَبْدَانَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۰۸۹]
(١٢٩٥٦) حسین بن علی (رض) نے خبر دی کہ حضرت علی (رض) نے کہا کہ جنگ بدر کی غنیمت میں سے مجھے ایک اونٹنی ملی تھی اسی جنگ کی غنیمت میں سے۔ خمس سے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک اونٹنی دی تھی، جب میرا ارادہ ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ سے شادی کا تو میں نے ایک سنار سے جو بنی قینقاع کا تھا، اس سے بات کی کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم اذخر لائیں تاکہ اس گھاس کو سناروں کے ہاتھ بیچ دوں اور اس کی قیمت ولیمہ کی دعوت میں لگاؤں گا، میں ابھی اپنی اونٹنی کے پالان، ٹوکرے اور رسیاں جمع کررہا تھا، اونٹنیاں ایک انصاری صحابی کے ہجرے کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں انتظام پورا کر کے جب آیا تو دیکھا کہ ان کی کوہان کسی نے کاٹ دیے ہیں اور کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی ہے۔ یہ حالت دیکھ کر میں اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکا۔ میں نے پوچھا : یہ کس نے کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : حمزہ بن عبدالمطلب نے اور وہ ابھی اسی ہجرہ میں انصار کے ساتھ شراب نوشی میں شریک تھے ، ان کے پاس ایک گانے والی ہے اور ان کے دوست احباب ہیں، گانے والی نے جب یہ مصرعپڑھا، ہاں اے حمزہ ! یہ عمدہ اور فربہ اونٹنیاں ہیں اور وہ صحن میں باندھی ہوئی ہیں تو حمزہ نے اپنی تلوار تھامی اور ان دونوں اونٹنیوں کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی۔ علی (رض) کہتے ہیں : میں وہاں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، زید بن حارثہ بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے چہرے سے پریشانی کو پہچان لیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا ہے ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آج جیسی تکلیف کی بات کبھی پیش نہ آئی تھی۔ حمزہ نے میری دونوں اونٹنیوں کو پکڑ کر ان کے کوہان کاٹ ڈالے ہیں اور ان کی کوکھ چیر ڈالی ہے اور وہ وہیں ایک گھر میں شراب کی مجلس میں ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی چادر منگوائی اور اوڑھ کر چل پڑے۔ میں اور حضرت زید بن حارثہ (رض) بھی ساتھ تھے۔ جب اس گھر کے قریب آپ تشریف لے گئے اور حضرت حمزہ (رض) نے جو کیا تھا اس پر تنبیہ کی۔ حمزہ (رض) شراب کے نشہ میں مست تھے اور ان کی آنکھیں سرخ تھیں، انھوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف نظر اٹھائی۔ پھر ذرا اور اوپر اٹھائی اور آپ کیگھٹنوں پر دیکھنے لگے۔ پھر نظر اٹھائی اور آپ کے چہرے پر دیکھنے لگے، پھر کہنے لگے : تم سب میرے ماں باپ کے غلام ہو۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمجھ گئے کہ وہ بےہوش ہے، اس لیے آپ فوراً الٹے پاؤں اس گھر سے باہر نکل آئے، ہم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔