(۱۲۹۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّیِّبِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ الزَّاہِدُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عَمَّارٍ الْعَتَکِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ أَبِی جَعْفَرٍ أَحْسِبُہُ قَالَ وَالزُّہْرِیِّ عَنْ یَزِیدَ یَعْنِی ابْنَ ہُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَۃُ یَعْنِی الْحَرُورِیَّ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَسْأَلُہُ عَنْ سَہْمِ ذَوِی الْقُرْبَی لِمَنْ ہُوَ؟ قَالَ : کَتَبْتَ إِلَیَّ تَسْأَلُنِی عَنْ سَہْمِ ذَوِی الْقُرْبَی لِمَنْ ہُوَ؟ فَہُوَ لَنَا وَقَدْ کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَعَانَا إِلَی أَنْ یُنْکِحَ مِنْہُ أَیِّمَنَا وَیُخْدِمَ مِنْہُ عَائِلَنَا وَیَقْضِیَ مِنْہُ عَنْ غَارِمِنَا فَأَبَیْنَا إِلاَّ أَنْ یُسَلِّمَہُ إِ لَیْنَا وَأَبَی أَنْ یَفْعَلَ فَتَرَکْنَاہُ۔ [صحیح]
(١٢٩٦٥) یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری نے ابن عباس (رض) سے سوال کیا کہ رشتہ داروں کے حصے کے متعلق کہ وہ کس کے لیے ہے ؟ انھوں نے کہا : تو نے مجھے لکھا ہے اور اقرباء کے حصے کے متعلق پوچھا ہے کہ وہ کس کے لیے ہے، وہ ہمارے لیے ہے اور سیدنا عمر (رض) ہمیں اس بات کی طرف دعوت دیتے تھے کہ وہ نکاح کروا دیں ان میں سے بعض کا رنڈوے مردوں یا عورتوں کے ساتھ اور ہمارے محتاجوں کو ان میں سے خادم دے دیں۔ وہ ہمارے قرض داروں کا قرض اد اکر دیں گے تو ہم نے انکار کردیا۔ صرف اس بات پر اڑ گئے کہ انھیں ہمارے سپرد کر دو انھوں نے انکار کردیا تو ہم نے بھی اس کو چھوڑ دیا۔