hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12971

.

سنن البيهقي

12971
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۹۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ قَالَ: کَتَبَ نَجْدَۃُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنْ ذِی الْقُرْبَی مَنْ ہُمْ وَسَأَلَہُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَۃِ یَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ ہَلْ لَہُمَا مِنَ الْمَغْنَمِ شَیْئٌ؟ وَکَتَبَ یَسْأَلُہُ عَنْ قَتَلِ الْوِلْدَانِ؟ فَقَالَ: اکْتُبْ یَا یَزِیدُ لَوْلاَ أَنْ یَقَعَ فِی أُحْمُوقَۃٍ مَا کَتَبْتُ إِلَیْہِ سَأَلْتَ عَنْ ذِی الْقُرْبَی مَنْ ہُمْ؟ فَزَعَمْنَا أَنَّا نَحْنُ ہُمْ فَأَبَی ذَلِکَ عَلَیْنَا قَوْمُنَا وَکَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَۃِ یَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ لَیْسَ لَہُمَا شَیْئٌ إِلاَّ أَنْ یُحْذَیَا وَکَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْوِلْدَانِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمْ یَقْتُلْہُمْ وَأَنْتَ لاَ تَقْتُلْہُمْ إِلاَّ أَنْ تَعْلَمَ مِنْہُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَی مِنَ الْغُلاَمِ وَسَأَلْتَ عَنِ الْیَتِیمِ مَتَی یَنْقَضِی یُتْمُہُ؟ وَیَنْقَضِی یُتْمُہُ إِذَا أُونِسَ مِنْہُ الرُّشْدُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنَی بِقَوْلِہِ فَأَبَی ذَلِکَ عَلَیْنَا قَوْمُنَا غَیْرَ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- یَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ وَأَہْلَہُ۔
(١٢٩٦٦) یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری نے ابن عباس (رض) سے رشتہ داروں کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کون ہیں اور غلام اور عورت کے بارے میں سوال کیا جو غنیمت کی جگہ حاضر ہوں تو کیا ان کو غنیمت میں سے کچھ دیا جائے ؟ اور بچوں کے قتل کے بارے میں سوال کیا پس کہا : اے یزید ! لکھو اگر بےوقوفی والا کام نہ ہوا ہوتا تو میں نہ لکھتا۔ تو نے رشتہ داروں کے بارے میں پوچھا ہے کہ وہ کون ہیں، ہمارے خیال میں وہ ہم ہی ہیں، پس اس پر ہماری قوم نے انکار کیا اور تو نے غلام اور عورت کے بارے میں پوچھا ہے، جو غنیمت کے وقت حاضر ہوں تو ان کے لیے کوئی مقرر حصہ نہیں مگر ان کو بطور انعام کچھ دے دیا جائے اور بچوں کے قتل کے بارے میں تو نے سوال کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو قتل نہ کرتے تھے، پس تو بھی نہ کر مگر یہ کہ تو ان میں سے جان لے جیسے موسیٰ کے ساتھی نے جان لیا تھا اور تو نے یتیم کے بارے میں سوال کیا ہے کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوگی اور اس کی یتیمی اس وقت ختم ہوگی جب وہ رشد و ہدایت تک پہنچ جائے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جائز ہے کہ ابن عباس (رض) کے قول سے مراد یہ ہو ہم پر ہماری قوم نے انکار کیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے علاوہ ہوں یزید بن معاویہ اور اس کے اہل۔ [صحیح ]