(۱۲۹۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا ُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ : ذَکَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَوْمًا الْفَیْئَ فَقَالَ : مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِہَذَا الْفَیْئِ مِنْکُمْ وَمَا أَحَدٌ مِنَّا بِأَحَقَّ بِہِ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ أَنَّا عَلَی مَنَازِلِنَا مِنْ کِتَابِ اللَّہِ وَقَسَمِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَالرَّجُلُ وَقَدَمُہُ وَالرَّجُلُ وَبَلاَؤُہُ وَالرَّجُلُ وَعِیَالُہُ وَالرَّجُلُ وَحَاجَتُہُ۔ [ضعیف۔ احمد ۱/۴۲]
(١٢٩٧٢) مالک بن اوس فرماتے ہیں : ایک دن عمر (رض) نے مال فئی کا ذکر کیا، کہا : میں اس مال کا تم سے زیادہ حق دار نہیں ہوں اور ہم میں سے کوئی بھی اس کا حق دار نہیں ہے مگر ہم کتاب اللہ اور جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تقسیم کرتے تھے ویسے کریں گے۔ آدمی اور اس کا آنا، آدمی اور اس کی ضرورت، آدمی اور اس کے گھر والے اور آدمی اور اس کی حاجت۔