hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13008

.

سنن البيهقي

13008
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۰۰۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ َخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃٍ ذَکَرَہَا قَالَ ثُمَّ تَلاَ { إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَائِ وَالْمَسَاکِینِ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ فَقَالَ : ہَذِہِ لِہَؤُلاَئِ ثُمَّ تَلاَ { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ثُمَّ قَالَ : ہَذَا لِہَؤُلاَئِ ثُمَّ تَلاَ { مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقُرَی } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ثُمَّ قَرَأَ { لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ثُمَّ قَالَ : ہَؤُلاَئِ الْمُہَاجِرُونَ ثُمَّ تَلاَ { وَالَّذِینَ تَبَوَّئُ وا الدَّارَ وَالإِیمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ فَقَالَ : ہَؤُلاَئِ الأَنْصَارِ قَالَ وَقَالَ { وَالَّذِینَ جَائُ وا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالإِیمَانِ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ قَالَ : فَہَذِہِ اسْتَوْعَبَتِ النَّاسَ فَلَمْ یَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ إِلاَّ وَلَہُ فِی ہَذَا الْمَالِ حَقٌّ إِلاَّ مَا تَمْلِکُونَ مِنْ رَقِیقِکُمْ فَإِنْ أَعِشْ إِنْ شَائَ اللَّہُ لَمْ یَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِینِ إِلاَّ سَیَأْتِیہِ حَقُّہُ حَتَّی الرَّاعِی بِسُرَّ وَحِمْیَرَ یَأْتِیہِ حَقُّہُ وَلَمْ یَعْرَقْ فِیہِ جَبِینُہُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ہَذَا الْحَدِیثُ یَحْتَمِلُ مَعَانِیَ مِنْہَا أَنْ نَقُولَ لَیْسَ أَحَدٌ یُعْطَی بِمَعْنَی حَاجَۃً مِنْ أَہْلِ الصَّدَقَۃِ أَوْ مَعْنَی أَنَّہُ مِنْ أَہْلِ الْفَیْئِ الَّذِینَ یَغْزُونَ إِلاَّ وَلَہُ حَقٌّ فِی ہَذَا الْمَالِ الْفَیْئِ أَوِ الصَّدَقَۃِ وَہَذَا کَأَنَّہُ أَوْلَی مَعَانِیہِ فَقَدْ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی الصَّدَقَۃِ: لاَ حَظَّ فِیہَا لَغَنِیٍّ وَلاَ لِذِی مِرَّۃٍ مُکْتَسِبٍ۔ وَالَّذِی أَحْفَظُ عَنْ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الأَعْرَابَ لاَ یُعْطَوْنَ مِنَ الْفَیْئِ۔ قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ مَضَی ہَذَا فِی حَدِیثِ بُرَیْدَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَقَدْ حَکَی أَبُو عَبْدِالرَّحْمَنِ الشَّافِعِیُّ عَنِ الشَّافِعِیِّ أَنَّہُ قَالَ فِی کِتَابِ السِّیَرِ الْقَدِیمِ مَعْنَی ہَذَا ثُمَّ اسْتَثْنَی فَقَالَ: إِلاَّ أَنْ لاَ یُصَابَ أَحَدُ الْمَالَیْنِ وَیُصَابَ الآخَرُ وَ بِالصِّنْفَیْنِ إِلَیْہِ حَاجَۃٌ فَیُشَرَّکُ بَیْنَہُمْ فِیہِ قَالَ وَقَدْ أَعَانَ أَبُوبَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی خُرُوجِہِ إِلَی أَہْلِ الرِّدَّۃِ بِمَالٍ أَتَی بِہِ عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ مِنْ صَدَقَۃِ قَوْمِہِ فَلَمْ یُنْکَرْ عَلَیْہِ ذَلِکَ إِذْ کَانَتْ بِالْقَوْمِ إِلَیْہِ حَاجَۃٌ وَالْفَیْئُ مِثْلُ ذَلِکَ۔ [صحیح]
(١٣٠٠٣) مالک بن اوس نے حضرت عمر (رض) سے ایک قصہ بیان کیا، پھر تلاوت کی : { إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَائِ وَالْمَسَاکِینِ } آخر تک۔ یہ ان کے لیے ہے۔ پھر تلاوت کی : { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ } آخر تک۔ پھر کہا : یہ ان کے لیے ہے پھر تلاوت کی { مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقُرَی } آخر تک۔ پھر کہا : یہ ان کے لیے ہے۔ پھر پڑھا : { لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ } آخر تک۔ پھر یہ مہاجروں کے لیے ہے اور کہا : { وَالَّذِینَ تَبَوَّئُ وا الدَّارَ وَالإِیمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ } آخر تک۔ پھر کہا : اس آیت نے تمام مسلمانوں کو شامل کردیا ہے، مسلمانوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں، جس کا اس مال میں حق نہ ہو سوائے غلاموں کے۔ پس اگر میں زندہ رہا تو مسلمانوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہوگا کہ جسے اس کا حق نہ پہنچے حتیٰ کہ ایک چرواہا سُر میں یا حمیر میں ہو تو اسے اس کا حق ملے گا اور اس کی پیشانی پر پسینہ بھی نہ آئے گا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اس حدیث میں کئی معنوں کا احتمال ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی ایسا نہیں کہ اسے ضرورت سے دیا جاسکتا ہے، اہل صدقہ میں سے اور اہل فئی میں سے۔ وہ لوگ جو غزوؤں پر جاتے ہیں مگر اس کے لیے اس مال فئی یا صدقہ میں اس کا حق ہے، یہ اس کے سب سے عمدہ معنیٰ ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ کے بارے میں فرمایا : اس میں غنی اور کمانے والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے اور جو میں نے اہل علم سے یاد کیا ہے کہ اعراب کو فئی میں سے نہیں دیا جائے گا۔