(۱۳۰۰۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْخَثْعَمِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ قَالَ حَدَّثَنِی نَافِعٌ قَالَ حَدَّثَنِی ابْنُ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَرَضَہُ یَوْمَ أُحُدٍ لِلْقِتَالِ قَالَ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَلَمْ یُجِزْنِی قَالَ ثُمَّ عَرَضَنِی یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَأَجَازَنِی۔ قَالَ نَافِعٌ : فَقَدِمْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَہُوَ إِذْ ذَاکَ خَلِیفَۃٌ فَحَدَّثْتُ ہَذَا الْحَدِیثَ فَقَالَ : إِنَّ ہَذَا لَحَدٌّ بَیْنَ الصَّغِیرِ وَالْکَبِیرِ ثُمَّ کَتَبَ إِلَی عُمَّالِہِ أَنْ یَفْرِضُوا لِمَنْ بَلَغَ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَمَا کَانَ دُونَ ذَلِکَ أَنْ یَجْعَلُوہُ مَعَ الْعِیَالِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ بخاری]
(١٣٠٠٤) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن اس کو لڑنے کے لیے بلایا۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا : میں چودہ برس کا ہوں، پس آپ نے مجھے اجازت نہ دی، پھر خندق کے دن بلایا میں نے کہا : میں پندرہ برس کا ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اجازت دے دی۔ نافع کہتے ہیں : میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا، جب وہ خلیفہ تھے، میں نے یہ حدیث بیان کی۔ انھوں نے کہا : یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان حد ہے، پھر اپنے عاملوں کو لکھا کہ اس کے لیے حصہ مقرر کرو جو پندرہ برس کا ہے اور جو اس کے علاوہ ہو اسے گھر والوں سے ملا دو ۔