(۱۳۰۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اجْتَمِعُوا لِہَذَا الْفَیْئِ حَتَّی نَنْظُرَ فِیہِ قَالَ ثُمَّ قَالَ لَہُمْ بَعْدُ إِنِّی قَدْ کُنْتُ أَمَرْتُکُمْ أَنْ تَجْتَمِعُوا لَہُ حَتَّی نَنْظُرَ فِیہِ وَإِنِّی قَرَأْتُ آیَاتٍ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْتَغْنَیْتُ بِہِنَّ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقُرَی فَلِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ} إِلَی قَوْلِہِ { شَدِیدُ الْعِقَابِ} وَاللَّہِ مَا ہُوَ لِہَؤُلاَئِ وَحْدَہُمْ ثُمَّ قَرَأَ { لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ثُمَّ قَرَأَ {وَالَّذِینَ جَائُ وا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالإِیمَانِ} وَاللَّہِ مَا ہُوَ لِہَؤُلاَئِ وَحْدَہُمْ وَلَئِنْ بَقِیتُ إِلَی قَابِلٍ لأُلْحِقَنَّ آخِرَ النَّاسِ بِأَوَّلِہِمْ فَلأَجْعَلَنَّہُمْ بَبَّانًا وَاحِدًا یَعْنِی بَاجًا وَاحِدًا قَالَ : فَجَائَ ابْنٌ لَہُ وَہُوَ یَقْسِمُ یُقَالُ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ لُہَیَّۃَ امْرَأَۃٍ کَانَتْ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ : اکْسُنِی خَاتَمًا فَقَالَ لَہُ : الْحَقْ بِأُمِّکَ تَسْقِیکَ شَرْبَۃً مِنْ سَوِیقٍ فَوَاللَّہِ مَا أَعْطَاہُ شَیْئًا۔ [ضعیف]
(١٣٠٠٥) زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے کہا : اس مال فئی کو جمع کرو تاکہ ہم اندازہ لگائیں۔ پھر بعد میں یہی کہا کہ میں نے تم کو حکم دیا ہے، اسے جمع کرو تاکہ ہم اندازہ لگائیں اور میں نے اللہ کی کتاب میں پڑھا ہے، میں ان سے بے پروا ہوں۔ اللہ فرماتے ہیں : { مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقُرَی فَلِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ } إِلَی قَوْلِہِ { شَدِیدُ الْعِقَابِ } اللہ کی قسم یہ ان اکیلوں کے لیے نہیں ہے پھر پڑھا { لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ } پھر پڑھا : { وَالَّذِینَ جَائُ وا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالإِیمَانِ } اللہ کی قسم ! ان کے لیے بھی نہیں اور اگر آئندہ سال میں باقی رہا تو میں ضرور ملاؤں گا آخری لوگوں کو بھی پہلوں سے پس میں ضرور ان کو ایک ہی قسم بناؤں گا۔ جب وہ تقسیم کر رہے تھے تو ان کا بیٹا آیا۔ عبدالرحمن بن لہیہ جو عمر کی ایک بیوی سے تھا اس نے کہا : مجھے انگوٹھی پہناؤ۔ عمر (رض) نے اسے کہا : اپنی ماں سے کہو، وہ تجھے ستو پلائے، اللہ کی قسم ! اسے کوئی چیز نہ دی۔