hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13014

.

سنن البيهقي

13014
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۰۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ َخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَاہِرِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنِی أَبِی َخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ الْفَرَّائُ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الْمُبَارَکُ بْنُ فَضَالَۃَ عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ أَکْیَسَ الْکَیْسِ التَّقْوَی وَأَحْمَقَ الْحُمْقَ الْفُجُورُ أَلاَ وَإِنَّ الصِّدْقَ عِنْدِی الأَمَانَۃُ وَالْکَذِبَ الْخِیَانَۃُ أَلاَ وَإِنَّ الْقَوِیَّ عِنْدِی ضَعِیفٌ حَتَّی آخُذَ مِنْہُ الْحَقَّ وَالضَّعِیفَ عِنْدِی قَوِیٌّ حَتَّی آخُذَ لَہُ الْحَقَّ أَلاَ وَإِنِّی قَدْ وُلِّیتُ عَلَیْکُمْ وَلَسْتُ بِأَخْیَرِکُمْ۔ قَالَ الْحَسَنُ : ہُوَ وَاللَّہِ خَیْرُہُمْ غَیْرَ مُدَافَعٍ وَلَکِنَّ الْمُؤْمِنَ یَہْضِمُ نَفْسِہُ۔ ثُمَّ قَالَ : لَوَدِدْتُ أَنَّہُ کَفَانِی ہَذَا الأَمْرَ أَحَدُکُمْ۔ قَالَ الْحَسَنُ : صَدَقَ وَاللَّہِ۔ وَإِنْ أَنْتُمْ أَرْدَتُمُونِی عَلَی مَا کَانَ اللَّہُ یُقِیمُ نَبِیَّہُ مِنَ الْوَحْیِ مَا ذَلِکَ عِنْدِی إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَرَاعُونِی فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَی السُّوقِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَیْنَ تُرِیدُ؟ قَالَ السُّوقَ قَالَ : قَدْ جَائَ کَ مَا یَشْغَلُکَ عَنِ السُّوقِ۔ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّہِ یَشْغَلُنِی عَنْ عِیَالِی قَالَ : تَفْرِضُ بِالْمَعْرُوفِ قَالَ : وَیْحَ عُمَرَ إِنِّی أَخَافُ أَنْ لاَ یَسَعَنِی أَنْ آکُلَ مِنْ ہَذَا الْمَالِ شَیْئًا قَالَ فَأَنْفَقَ فِی سَنَتَیْنِ وَبَعْضِ أُخْرَی ثَمَانِیَۃَ آلاَفِ دِرْہَمٍ فَلَمَّا حَضَرَہُ الْمَوْتُ قَالَ قَدْ کُنْتُ قُلْتُ لِعُمَرَ إِنِّی أَخَافُ أَنْ لاَ یَسَعَنِی أَنْ آکُلَ مِنْ ہَذَا الْمَالِ شَیْئًا فَغَلَبَنِی فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَخُذُوا مِنْ مَالِی ثَمَانِیَۃَ آلاَفٍ دِرْہَمٍ وَرُدُّوہَا فِی بَیْتِ الْمَالِ قَالَ فَلَمَّا أُتِیَ بِہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : رَحِمَ اللَّہُ أَبَا بَکْرٍ لَقَدْ أَتْعَبَ مَنْ بَعْدَہُ تَعَبًا شَدِیدًا۔ [ضعیف]
(١٣٠٠٩) حسن سے روایت ہے کہ ابوبکر نے لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ کی حمدوثنا بیان کی، پھر کہا : عقل مندی تقویٰ ہے اور حماقت برائی ہے اور صدق میرے نزدیک امانت ہے اور جھوٹ میرے نزدیک خیانت ہے، خبردار ! قوی میرے نزدیک ضعیف ہے، یہاں تک کہ اس سے حق لے لوں اور کمزور میرے نزدیک قوی ہے، یہاں تک کہ اس کا حق لے لوں۔ خبردار ! میں تمہارا والی بنا ہوں اور میں تم میں بہتر نہیں ہوں۔ حسن نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ ان میں بہتر تھے اور لیکن مومن اپنے آپ کو کم تر سمجھتا ہے، پھر کہا : میں پسند کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی مجھے اس عہدے پر کافی ہوجائے۔ حسن نے کہا : اس نے سچ کہا، اللہ کی قسم اور اگر تم ارادہ رکھتے ہو کہ جہاں اللہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قائم کیا تھا، وہ میرے پاس رہے تو میں ایک انسان ہوں۔ پس میرا خیال رکھنا، جب صبح ہوئی تو بازار کی طرف گئے۔ عمر (رض) نے ان سے کہا تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو۔ ابوبکر (رض) نے کہا : بازار کا۔ عمر (رض) نی فرمایا : تحقیق آپ کے پاس ایسا معاملہ آگیا ہے جس نے آپ کو بازار سے مشغول کردیا ہے، ابوبکر (رض) نے کہا : سبحان اللہ۔ میرے گھر والوں سے بھی مشغول کردیا ہے۔ عمر (رض) نے کہا : معروف طریقے سے مال لے لو۔ ابوبکر (رض) نے کہا اے عمر ! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں اس بیت المال سے نہ کھالوں۔ کہا انھوں نے دو سال اور چند مہینوں میں آٹھ ہزار درہم خرچ کیے۔ جب موت آئی تو کہا : میں نے عمر (رض) سے کہا تھا، میں ڈرتا ہوں کہ بیت المال سے کھاؤں، پس وہ مجھ پر غلبہ پا گئے۔ پس جب میں فوت ہوں تو میرے مال سے آٹھ ہزار درہم لے لینا اور بیت المال میں لوٹا دینا۔ جب عمر کے پاس وہ درہم لائے گئے تو کہا : اللہ ابوبکر پر رحم کریں انھوں نے بعد والوں کے لیے شدید مشکل چھوڑی۔