hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13020

.

سنن البيهقي

13020
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۰۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَلِیٍّ : حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَکَّانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی السَّائِبُ بْنُ یَزِیدَ أَنَّ حُوَیْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّی أَخْبَرَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ السَّعْدِیِّ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی خِلاَفَتِہِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّکَ تَلِی مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالاً فَإِذَا أُعْطِیتَ الْعُمَالَۃَ کَرِہْتَہَا قَالَ فَقُلْتُ : بَلَی قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَمَا تُرِیدُ إِلَی ذَلِکَ قَالَ فَقُلْتُ : إِنَّ لِی أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَیْرٍ وَأُرِیدُ أَنْ تَکُونَ عُمَالَتِی صَدَقَۃً عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنِّی قَدْ کُنْتُ أَرَدْتُ ذَلِکَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعْطِینِی الْعَطَائَ فَأَقُولُ أَعْطِہِ أَفْقَرَ إِلَیْہِ مِنِّی حَتَّی أَعْطَانِی مَرَّۃً مَالاً فَقُلْتُ أَعْطِہِ أَفْقَرَ إِلَیْہِ مِنِّی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : خُذْہُ فَتَمَوَّلْہُ أَوْ تَصَدَّقْ بِہِ وَمَا جَائَ کَ مِنْ ہَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَیْرَ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْہُ وَمَا لاَ فَلاَ تُتْبِعْہُ نَفْسَکَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۷۱۶۴]
(١٣٠١٥) عبداللہ بن ساعدی فرماتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب (رض) کے پاس ان کی خلافت میں آئے۔ عمر (رض) نے ان سے کہا : کیا میں تمہیں بیان نہ کروں کہ تو لوگوں کے کاموں کا والی بن جا۔ پس جب تجھے اجرت دی جائے گی تو تو اسے ناپسند کرے گا ؟ میں نے کہا : ہاں۔ عمر (رض) نے کہا : تیرا ارادہ کیا ہوگا ؟ میں نے کہا : میرے پاس گھوڑے ہیں، غلام ہیں اور میں بہتر حالت میں ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو۔ عمر (رض) نے کہا : ایسا نہ کر میں نے بھی یہ ارادہ کیا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے دیتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے پکڑ لو اور اس کے مالک بن جاؤ۔ پھر صدقہ کر دو اور جو مال اس طرح آئے کہ تجھے اس کی خواہش نہ تھی اور نہ تو اس کا طلب گار تھا تو اسے لے لینا۔