(۱۳۰۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ أَسْلَمَ أَنَّہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ عَامِ الرَّمَادَاتِ وَأَجْدَبَتْ بِلاَدُ الْعَرَبِ کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ عَبْدِ اللَّہِ عُمَرَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ إِلَی الْعَاصِ بْنِ الْعَاصِ إِنَّکَ لَعَمْرِی مَا تُبَالِی إِذَا سَمِنْتَ وَمَنْ قِبَلَکَ أَنْ أَعْجَفَ أَنَا وَمَنْ قِبَلِی وَیَا غَوْثَاہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ : ثُمَّ دَعَا أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَخَرَجَ فِی ذَلِکَ فَلَمَّا رَجَعَ بَعَثَ إِلَیْہِ بِأَلْفِ دِینَارٍ فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ : إِنِّی لَمْ أَعْمَلْ لَکَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّہِ وَلَسْتُ آخُذُ فِی ذَلِکَ شَیْئًا فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَدْ أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی أَشْیَائَ بَعَثَنَا لَہَا فَکَرِہْنَا ذَلِکَ فَأَبَی عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَاقْبَلْہَا أَیُّہَا الرَّجُلُ فَاسْتَعِنْ بِہَا عَلَی دَیْنِکَ وَدُنْیَاکَ فَقَبِلَہَا أَبُو عُبَیْدَۃَ۔ [ضعیف]
(١٣٠١٦) زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ کٹائی کا سال تھا اور عرب کے لوگ فصل کاٹ رہے تھے تو عمر بن خطاب (رض) نے عمرو بن عاص (رض) کو لکھا، اللہ کے بندے امیر المومنین عمر کی طرف سے عمرو بن عاص کو۔ پھر ابوعبیدہ کو بلایا، وہ نکلے، اس میں جب وہ لوٹے تو وہ ایک ہزار دینار لے کر آئے۔ ابوعبیدہ نے کہا : اے عمر (رض) ! میں نے اللہ کے لیے یہ کام کیا ہے اور میں کچھ نہیں لوں گا۔ عمر (رض) نے کہا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیتے تھے، جب ہمیں بھیجتے تھے۔ ہم نے یہ مکروہ سمجھاتورسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار کردیا، وہ آدمی اسے قبول کرلیتا۔ تو بھی اس سے مدد حاصل کر اپنے قرض پر اور دنیا میں ۔ پھر ابوعبیدہ نے اسے قبول کرلیا۔