hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13022

.

سنن البيهقي

13022
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۰۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ فِرَاسٍ الْفَقِیہُ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ سَہْلٍ الدِّمْیَاطِیُّ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ یَحْیَی التُّجِیبِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ مِثْلَہُ وَذَکَرَ مَا تَرَکَ مِنَ الأَوَّلِ فَقَالَ فَکَتَبَ عَمْرٌو : السَّلاَمُ أَمَّا بَعْدُ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ أَتَتْکَ عِیرٌ أَوَّلُہَا عِنْدَکَ وَآخِرُہَا عِنْدِی مَعَ إِنِّی أَرْجُو أَنْ أَجِدَ سَبِیلاً أَنْ أَحْمِلَ فِی الْبَحْرِ فَلَمَّا قَدِمَ أَوَّلُ عِیرٍ دَعَا الزُّبَیْرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : اخْرُجْ فِی أَوَّلِ ہَذِہِ الْعِیرِ فَاسْتَقْبِلْ بِہَا نَجْدًا فَاحْمِلْ إِلَیَّ َہْلِ کُلِّ بَیْتٍ قَدَرْتَ أَنْ تَحْمِلَہُمْ إِلَیَّ وَمَنْ لَمْ تَسْتَطِعْ حَمْلَہُ فَمُرْ لِکُلِّ أَہْلِ بَیْتٍ بِبَعِیرٍ بِمَا عَلَیْہِ وَمُرْہُمْ فَلْیَلْبَسُوا کِسَائَیْنِ وَلْیَنْحَرُوا الْبَعِیرَ فَیَجْمُلُوا شَحْمَہُ وَلْیُقَدِّدُوا لَحْمَہُ وَلْیَحْتَذُوا جِلْدَہُ ثُمَّ لِیَأْخُذُوا کُبَّۃً مِنْ قُدَیْدٍ وَکُبَّۃً مِنْ شَحْمٍ وَجَفْنَۃً مِنْ دَقِیقٍ فَیَطْبُخُوا وَیَأْکُلُوا حَتَّی یَأْتِیَہُمْ اللَّہُ بِرِزْقٍ فَأَبَی الزُّبَیْرُ أَنْ یَخْرُجَ فَقَالَ : أَمَّا وَاللَّہِ لاَ تَجِدُ مِثْلَہَا حَتَّی تَخْرُجَ مِنَ الدُّنْیَا ثُمَّ دَعَا آخَرَ أَظُنُّہُ طَلْحَۃَ فَأَبَی ثُمَّ دَعَا أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَخَرَجَ فِی ذَلِکَ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ بِنَحْوِہِ۔ [ضعیف]
(١٣٠١٧) عمرو نے لکھا : السلام علیکم اور امابعد ! میں حاضر ہوں، آپ کے پاس اونٹ آرہے ہیں، پہلا اونٹ آپ کے پاس ہوگا اور آخری میرے پاس اس امید کے ساتھ کہ میں سمندر میں راستہ پاؤں گا۔ جب پہلا اونٹ آیا۔ عمر (رض) نے زبیر کو بلایا۔ کہا اس پہلے اونٹ کو نجد کی طرف لے جاؤ اور تو میری طرف ہر اس گھر والے کو بھیج، جس پر تو میری طرف بھیجنے کی قوت رکھتا ہے۔ اگر تو اس کو بھیجنے کی طاقت نہیں رکھتا تو ہر گھر والے کو حکم دے کہ اس کے بدلے میں اونٹ دیں جو ان پر واجب ہے اور ان کو حکم دے کہ وہ دو لباس پہنیں اور وہ اونٹ ذبح نہ کریں اور اس کی چربی کو جمع کرلیں، اس کے گوشت کے ٹکڑے کر کے سکھا لیں اور اس کے چمڑے کے جوتے بنالیں۔ پھر وہ گوشت کے ٹکڑوں کا ایک کوفتہ لیں اور چربی سے بھی اور آٹے کا ایک پیالہ لیں، پھر سالن پکائیں اور کھائیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاں رزق لے آئے۔ پس حضرت زبیر (رض) نے انکار کردیا کہ وہ نکلیں، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تو اس جیسی (پیشکش) نہ پائے گا، یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہوجائے، پھر ایک دوسرا آدمی بلایا، میرا خیال ہے کہ وہ طلحہ تھا۔ اس نے بھی انکار کردیا، پھر حضرت ابوعبیدہ بن جراح کو بلایا، پس وہ اس معاملے میں نکل گئے۔ باقی حدیث اس طرح ہے۔