(۱۳۰۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ السِّقَائِ َخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ سَاہِمُ الْوَجْہِ قَالَتْ فَحَسِبْتُ ذَلِکَ مِنْ وَجَعٍ فَقُلْتُ : مَا لَکَ سَاہِمُ الْوَجْہِ؟ فَقَالَ : مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِیرِ السَّبْعَۃِ الَّتِی أَتَتْنَا أَمْسِ وَلَمْ نَقْسِمْہَا وَہِیَ فِی خُصْمِ الْفِرَاشِ ۔ [حسن]
(١٣٠٣٠) حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کا رنگ اترا ہوا تھا۔ میں نے خیال کیا کہ بیماری کی وجہ سے ایسے ہے۔ میں نے کہا : آپ کے چہرے کا رنگ کیوں بدلا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان سات دیناروں کی وجہ سے جو کل آئے تھے اور ہم نے ان کو تقسیم نہیں کیا اور وہ بستر میں پڑے ہوئے ہیں۔