(۱۳۰۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ قَالُوا َخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَجَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِغَنَائِمَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَادِسِیَّۃِ فَجَعَلَ یَتَصَفَّحُہَا وَیَنْظُرُ إِلَیْہَا وَہُوَ یَبْکِی وَمَعَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ہَذَا یَوْمُ فَرَحٍ وَہَذَا یَوْمُ سُرُورٍ۔ قَالَ فَقَالَ : أَجَلْ وَلَکِنْ لَمْ یُؤْتَ ہَذَا قَوْمٌ قَطُّ إِلاَّ أَوْرَثَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَائَ ۔ [ضعیف]
(١٣٠٣٤) مسور بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) کے پاس قادسیہ کی غنیمت آئی تو اسے دیکھ کر رونے لگے، ساتھ عبدالرحمن بن عوف (رض) تھے، انھوں نے کہا : کیوں رو رہے ہو ؟ یہ دن خوشی کا دن ہے۔ کہا : ہاں، لیکن یہ کبھی بھی نہیں لایا گیا مگر دشمنی اور بغض ان میں ڈال دیتا ہے۔