(۱۳۰۳۳) وَفِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدَ بْنَ یَعْقُوبَ حَدَّثَہُمْ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ َخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ َخْبَرَنَا غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنَّہُ لَمَّا قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمَا أُصِیبَ مِنَ الْعِرَاقِ قَالَ لَہُ صَاحِبُ بَیْتِ الْمَالِ : أَنَا أُدْخِلُہُ بَیْتَ الْمَالِ قَالَ : لاَ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ لاَ یُؤْوَی تَحْتَ سَقْفِ بَیْتٍ حَتَّی أَقْسِمَہُ فَأَمَرَ بِہِ فَوُضِعَ فِی الْمَسْجِدِ وَوُضِعَتْ عَلَیْہِ الأَنْطَاعُ وَحَرَسَہُ رِجَالٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا مَعَہُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ آخِذٌ بِیَدِ أَحَدِہِمَا أَوْ أَحَدُہُمَا آخِذٌ بِیَدِہِ فَلَمَّا رَأَوْہُ کَشَطُوا الأَنْطَاعَ عَنِ الأَمْوَالِ فَرَأَی مَنْظَرًا لَمْ یَرَ مِثْلَہُ رَأَی الذَّہَبَ فِیہِ وَالْیَاقُوتَ وَالزَّبَرْجَدَ وَاللُّؤْلُؤَ یَتَلأْلأُ فَبَکَی فَقَالَ لَہُ أَحَدُہُمَا : إِنَّہُ وَاللَّہِ مَا ہُوَ بِیَوْمِ بُکَائٍ وَلَکِنَّہُ یَوْمُ شُکْرٍ وَسُرُورٍ فَقَالَ : إِنِّی وَاللَّہِ مَا ذَہَبْتُ حَیْثُ ذَہَبْتَ وَلَکِنَّہُ وَاللَّہِ مَا کَثُرَ ہَذَا فِی قَوْمٍ قَطُّ إِلاَّ وَقَعَ بَأْسُہُمْ بَیْنَہُمْ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی الْقِبْلَۃِ وَرَفَعَ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَائِ وَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَکُونَ مُسْتَدْرَجًا فَإِنِّی أَسْمَعُکَ تَقُول (سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِنْ حَیْثُ لاَ یَعْلَمُونَ) ثُمَّ قَالَ : أَیْنَ سُرَاقَۃُ بْنُ جُعْشُمٍ فَأُتِیَ بِہِ أَشْعَرَ الذِّرَاعَیْنِ دَقِیقَہُمَا فَأَعْطَاہُ سِوَارَیْ کِسْرَی فَقَالَ : الْبَسْہُمَا فَفَعَلَ فَقَالَ : قُلِ اللَّہُ أَکْبَرُ قَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ قَالَ : قُلِ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی سَلَبَہُمَا کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَأَلْبَسَہُمَا سُرَاقَۃَ بْنَ جُعْشُمٍ أَعْرَابِیًّا مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ وَجَعَلَ یَقْلِبُ بَعْضَ ذَلِکَ بِعْصًا فَقَالَ : إِنَّ الَّذِی أَدَّی ہَذَا لأَمِینٌ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : أَنَا أُخْبِرُکَ أَنْتَ أَمِینُ اللَّہِ وَہُمْ یُؤَدُّونَ إِلَیْکَ مَا أَدَّیْتَ إِلَی اللَّہِ فَإِذَا رَتَعْتَ رَتَعُوا قَالَ : صَدَقْتَ ثُمَّ فَرَّقَہُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَإِنَّمَا أَلْبَسَہُمَا سُرَاقَۃَ لأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لِسُرَاقَۃَ وَنَظَرَ إِلَی ذِرَاعَیْہِ : کَأَنِّی بِکَ قَدْ لَبِسْتَ سِوَارَیْ کِسْرَی ۔ قَالَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَہُ إِلاَّ سِوَارَیْنِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا الثِّقَۃُ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ قَالَ : أَنْفَقَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی أَہْلِ الرَّمَادَۃِ حَتَّی وَقَعَ مَطَرٌ فَتَرَحَّلُوا فَخَرَجَ إِلَیْہِمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَاکِبًا فَرَسًا یَنْظَرُ إِلَیْہِمْ وَہُمْ یَتَرَحَّلُونَ بِظَعَائِنِہِمْ فَدَمَعَتْ عَیْنَاہُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی مُحَارِبِ بْنِ خَصَفَۃَ : أَشْہَدُ أَنَّہَا انْحَسَرَتْ عَنْکَ وَلَسْتَ بِابْنِ أَمَۃٍ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَیْلَکْ ذَلِکَ لَوْ کُنْتُ أَنْفَقْتُ عَلَیْہِمْ مِنْ مَالِی أَوْ مَالِ الْخَطَّابِ إِنَّمَا أَنْفَقْتُ عَلَیْہِمْ مِنْ مَالِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ [ضعیف]
(١٣٠٣٣) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب عمر (رض) کے پاس عراق سے مال لایا گیا تو بیت المال کے نگران نے کہا : میں اسے بیت المال میں داخل کر دوں۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : رب کعبہ کی قسم ! اسے بیت المال کی چھت کے نیچے پناہ نہ دی جائے گی حتیٰ کہ میں اسے تقسیم کر دوں۔ حکم دیا کہ وہ مال مسجد میں لایا جائے اور چمڑے مسجد میں رکھے گئے، مہاجرین اور انصار نے ان پر پہرہ دیا۔ جب صبح ہوئی تو عمر (رض) کے ساتھ عباس بن عبدالمطلب اور عبدالرحمن بن عوف ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے آئے۔ انھوں نے مال سے چمڑوں کو ہٹایا، پس بےمثال منظر دیکھا، اس میں سونا، یاقوت، جواہرات اور موتی دیکھے اور رونے لگ گئے۔ ایک نے کہا : آج رونے کی کیا وجہ ہے ؟ آج تو شکر اور خوشی کا دن ہے۔ عمر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! جو میں نے سوچا ہے تو نے وہ نہیں سوچا۔ اللہ کی قسم ! یہ کسی قوم میں اسی وقت زیادہ ہوتا جب ان میں لڑائی ہوتی ہے۔ پھر قبلہ رخ ہوئے، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور کہا : اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں پکڑا جاؤں۔ میں تجھے سنتا ہوں تو کہتا ہے : ہم ان کو ایسے پکڑیں گے کہ ان کو علم بھی نہ ہوگا، پھر کہا : سراقہ بن جعشم کہاں ہیں : ان کو لایا گیا : ان کو دو کنگن دیے گئے۔ کہا : ان کو پہنو اس نے پہنے تو کہا : اللہ اکبر کہو۔ پھر کہا : الحمد للہ کہو، جس نے ان کو کسریٰ بن ہرمز سے لیا اور سراقہ بن جعشم کو پہنایا، وہ بنی مدلج کے دیہاتی تھے۔ وہ ان کو پھیرنے لگے۔ پس کہا : جس نے یہ دیے ہیں وہ امین ہے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا : میں تجھے خبر دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے امین ہو اور وہ آپ کو دیتے ہیں، جو تم اللہ کی طرف دیتے ہو۔ جب تو خوش حال ہوگا تو وہ بھی خوش حال ہوں گے، عمر (رض) نے کہا : تو نے سچ کہا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : آپ نے سراقہ کو پہنائے، اس لیے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سراقہ سے کہا تھا اور اس کی کلائیوں کی طرف دیکھا گویا کہ میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو نے کسریٰ کے کنگن پہنے ہیں اور ان کے لیے صرف وہی دو کنگن تھے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ہمیں اہل مدینہ کے ثقہ لوگوں نے خبر دی، حضرت عمر (رض) نے قحط والوں پر خرچ کیا، حتیٰ کہ بارش ہوئی تو وہ واپس گئے۔ عمر بھی گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی طرف گئے، ان کی طرف دیکھا کہ وہ کوچ کر رہے ہیں تو عمر (رض) کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ بنی محارب کے ایک آدمی نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں، تجھے افسوس ہو رہا ہے اور تو لونڈی کا بیٹا تو نہیں ہے۔ عمر نے اسے کہا : تیرے لیے ہلاکت ہو اگر میں نے اپنے مال سے یا خطاب کے مال سے خرچ کیا ہوتا تو میں نے تو ان پر اللہ کے مال سے خرچ کیا ہے۔