(۱۳۰۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْہَبِ حَدَّثَنَا خُلَیْدٌ الْعَصَرِیُّ عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ : کُنْتُ فِی نَفَرٍ مِنْ قُرَیْشٍ فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَقُولُ : بَشِّرِ الْکَنَّازِینَ بِکَیٍّ فِی ظُہُورِہِمْ یَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِہِمْ وَبِکَیٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفِیَتِہِمْ یَخْرُجُ مِنْ جِبَاہِہِمْ قَالَ ثُمَّ تَنَحَّی فَقَعَدَ إِلَی سَارِیَۃٍ فَقُلْتُ : مَنْ ہَذَا؟ قَالُوا : ہَذَا أَبُو ذَرٍّ فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَقُلْتُ : مَا شَیْئٌ سَمِعْتُکَ تَقُولُ قُبَیْلُ قَالَ : مَا قُلْتُ إِلاَّ شَیْئًا سَمِعْتُہُ مِنْ نَبِیِّہِمْ -ﷺ- قَالَ قُلْتُ : مَا تَقُولُ فِی ہَذَا الْعَطَائِ ؟ قَالَ : خُذْہُ فَإِنَّ فِیہِ الْیَوْمَ مَعُونَۃً فَإِذَا کَانَ ثَمَنًا لِدِینِکَ فَدَعْہُ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ وَہُوَ فِی الْعَطَائِ مَوْقُوفٌ وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مَرْفُوعًا۔ [صحیح۔ مسلم ۹۹۲]
(١٣٠٤٠) احنف بن قیس فرماتے ہیں : میں قریش کی جماعت میں تھا، ابوذر گزرے اور وہ کہہ رہے تھے : خوشخبری دے دو خزانہ جمع کرنے والوں کو داغ کی، جو ان کے پیٹ پر لگائیں جائیں گے ان کے پہلوؤں سے نکلیں گے اور ان کی گدیوں پر لگائے جائیں گے۔ ان کی پیشانیوں سے نکلیں گے، پھر وہ ایک کنارے پر بیٹھ گئے، میں نے کہا : یہ کون ہے ؟ انھوں نے کہا : یہ ابو ذر ہیں، میں ان کے پاس کھڑا ہوا، ان سے کہا : یہ کیا تھا، جو میں نے ابھی آپ سے سنا، جو آپ کہہ رہے تھے، انھوں نے کہا : میں وہی کہہ رہا تھا، جو میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سنا ، میں نے کہا : آپ اس عطا کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، انھوں نے کہا : اس کو لیتے رہو اس میں مدد ہے، پھر جب یہ تمہارے دین کی قیمت ہوجائے تو چھوڑ دینا۔