(۱۳۰۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی الْحَوَارِیِّ حَدَّثَنَا سُلَیْمُ بْنُ مُطَیْرٍ شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ وَادِی الْقُرَی قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی مُطَیْرٌ : أَنَّہُ خَرَجَ حَاجًّا حَتَّی إِذَا کَانُوا بِالسُّوَیْدَائِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ قَدْ جَائَ کَأَنَّہُ یَطْلُبُ دَوَائً أَوْ حُضَضًا فَقَالَ أَخْبَرَنِی مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ وَہُوَ یَعِظُ النَّاسَ وَیَأْمُرُہُمْ وَیَنْہَاہُمْ فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ خُذُوا الْعَطَائَ مَا کَانَ عَطَائً فَإِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَیْشٌ عَلَی الْمُلْکِ وَکَانَ عَنْ دِینِ أَحَدِکُمْ فَدَعُوہُ۔ [ضعیف جداً۔ ابوداود ۲۹۵۸]
(١٣٠٤١) ابو مطیر حج کرنے کے لیے گئے، جب وہ سویداء مقام پر تھے تو ایک شخص دوائی تلاش کرتا ہوا آیا یا رسوت تلاش کرتا ہوا اور کہا : مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجۃ الوداع میں فرماتے تھے اور لوگوں کو وصیت کرتے تھے اور نیکی کا حکم کرتے تھے اور برائی سے منع کرتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! امام یا حاکم کی عطاء کو لے لیا کرو، جب تک وہ عطاکرتار ہے، پھر جب قریش ایک دوسرے سے لڑیں بادشاہی پر اور عطاقرض کے بدلے میں ہو تو اسے چھوڑ دینا۔