(۱۳۰۵۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِخَیْبَرَ وَکَانَ رَمِدًا فَقَالَ : أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَخَرَجَ فَلَحِقَ بِالنَّبِیِّ -ﷺ- فَلَمَّا کَانَ مَسَائُ اللَّیْلَۃِ الَّتِی فَتَحَ اللَّہُ فِی صَبَاحِہَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ أَوْ لَیَأْخُذَنَّ الرَّایَۃَ غَدًا رَجُلٌ یُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَوْ قَالَ یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ یَفْتَحُ اللَّہُ عَلَیْہِ ۔ فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَمَا نَرْجُوہُ فَقَالُوا : ہَذَا عَلِیٌّ فَأَعْطَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الرَّایَۃَ فَفَتَحَہَا اللَّہُ عَلَیْہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ بخاری، مسلم]
(١٣٠٥٨) سلمہ بن اکوع فرماتے ہیں کہ علی (رض) خیبر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پیچھے رہ گئے تھے اور ان کی آنکھیں خراب تھیں، کہا : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پیچھے رہ گیا، پس وہ نکلے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس رات ملے جس کی صبح کو فتح ہوئی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کل صبح میں ایسے آدمی کو جھنڈا دوں گا یا وہ آدمی جھڈاپکڑے گا جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں یا کہا : وہ اللہ کو اور اس کے رسول کو پسند کرتا ہے اور اللہ اس کے ہاتھ پر فتح دیں گے، پس وہ علی (رض) تھے اور ہمیں اس کی کوئی امیدنہ تھی۔ انھوں نے کہا : وہ علی تھے جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھنڈا دیا۔ پس اللہ نے فتح عطا فرمائی۔