(۱۳۱۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ َخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَہْلٍ عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی خُرُوجِہِ وَرُجُوعِہِ قَالَ حَتَّی أَشْرَفْنَا عَلَی الْمَدِینَۃِ فَقَالَ : ہَذِہِ طَابَۃُ وَہَذَا أُحُدٌ وَہُوَ جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ ۔ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ خَیْرَ دُورِ الأَنْصَارِ دَارُ بَنِی النَّجَّارِ ثُمَّ دَارُ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ ثُمَّ دَارُ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ دَارُ بَنِی سَاعِدَۃَ وَفِی کُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَیْرٌ ۔ فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ فَقَالَ أَبُو أُسَیْدٍ : أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَیَّرَ دُورَ الأَنْصَارِ فَجَعَلَنَا آخِرَہَا دَارًا فَأَدْرَکَ سَعْدٌ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ خَیَّرْتَ دُورَ الأَنْصَارِ فَجَعَلْتَنَا آخِرَہَا فَقَالَ : أَوَلَیْسَ بِحَسْبِکُمْ أَنْ تَکُونُوا مِنَ الْخِیَارِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۹۲]
(١٣١١٠) ابوحمید سے منقول ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے۔ سب کچھ نکلنا اور لوٹنا بیان کیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ طابہ ہے اور یہ احد ہے ، یہپہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر فرمایا : انصار کے بہترین گھر بنی نجار کے گھر میں، پھر بنی عبدالاشہل کے گھر میں، پھر بنی حارث کے گھر میں، پھر بنی ساعدہ کے گھر میں اور انصار کے سب گھروں میں خیر ہے۔ پس ہم سعد بن عبادہ کو ملے۔ ابواسید نے کہا : کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کے گھروں کو بہترین قرار دیا ہے، پس ہم نے اس کا گھر آخر پر رکھا، سعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے، کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ انصار کے گھروں کو بہترین قرار دیا ہے اور ہمیں آخر پر رکھا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیا تم حسب کے اعتبار سے بہتر نہیں ہو۔