(۱۳۱۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا حِزَامُ بْنُ ہِشَامِ بْنِ حُبَیْشٍ الْخُزَاعِیُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ : رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ شَادًّا حِقْوَہُ بِعِقَالٍ وَہُوَ یُمَارِسُ شَیْئًا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَۃِ قَالَ مَنْصُورٌ حِفْظِی أَنَّہُ کَانَ یَبِیعُہَا فِیمَنْ یَزِیدُ کُلَّمَا بَاعَ بَعِیرًا مِنْہَا شَدَّ حِقْوَہُ بِعِقَالِہِ ثُمَّ تَصَدَّقَ بِہَا یَعْنِی بِتِلْکَ الْعِقَالِ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رَوَی عِمْرَانُ بْنُ دَاوَرٍ الْقَطَّانُ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَنَسٍ فِی قِصَّۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوا أَنْ لاَ إِلَہُ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّی رَسُولُ اللَّہِ وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ۔ وَاللَّہِ لَوْ مَنَعُونِی عَنَاقًا مِمَّا کَانُوا یُعْطُونَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لأُقَاتِلَنَّہُمْ عَلَیْہِ۔
وَرُوِّینَا ہَذِہِ الزِّیَادَۃَ فِی إِقَامَۃِ الصَّلاَۃِ وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [حسن]
(١٣١١٨) حزام بن ہشام بن حبیش خزاعی نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا، وہ اپنی کمر کو مضبوطی کے ساتھ رسی سے باندھ لیتے اور وہ ان سے صدقے کے اونٹوں کو باندھنے کی مشقت کرتے تھے، منصور کہتے ہیں : مجھے یاد ہے کہ وہ زائد اونٹوں کو بیچ دیتے تھے، جب اونٹ بیچتے تو اس کو اپنی رسی کے ساتھ باندھتے، پھر اس کو صدقہ کردیتے، یعنی اس رسی کو۔