hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13157

.

سنن البيهقي

13157
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۱۵۲) وَحَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْظُفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِیُّ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکِنَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ اللَّیْثِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اللَّہُمَّ أَحْیِنِی مِسْکِینًا وَأَمِتْنِی مِسْکِینًا وَاحْشُرْنِی فِی زُمْرَۃِ الْمَسَاکِینِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : وَلِمَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : لأَنَّہُمْ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ الأَغْنِیَائِ بِأَرْبَعِینَ خَرِیفًا یَا عَائِشَۃُ لاَ تَرُدِّی الْمِسْکِینَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ یَا عَائِشَۃُ أَحِبِّی الْمَسَاکِینِ وَقَرِّبِیہِمْ فَإِنَّ اللَّہَ یُقَرِّبُکِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ قَالَ أَصْحَابُنَا فَقَدِ اسْتَعَاذَ مِنَ الْفَقْرِ وَسَأَلَ الْمَسْکَنَۃَ وَقَدْ کَانَ لَہُ بَعْضُ الْکِفَایَۃِ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ الْمِسْکِینَ مَنْ لَہُ بَعْضُ الْکِفَایَۃِ۔ قَالَ الشَّیْخُ قَدْ رُوِیَ فِی حَدِیثِ شَیْبَانَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ اسْتَعَاذَ مِنَ الْمَسْکَنَۃِ وَالْفَقْرِ فَلاَ یَجُوزُ أَنْ تَکُونَ اسْتِعَاذَتُہُ مِنَ الْحَالِ الَّتِی شَرَّفَہَا فِی أَخْبَارٍ کَثِیرَۃٍ وَلاَ مِنَ الْحَالِ الَّتِی سَأَلَ أَنْ یُحْیَی وَیُمَاتَ عَلَیْہَا وَلاَ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ مَسْأَلَتُہُ مُخَالِفَۃً لِمَا مَاتَ -ﷺ- عَلَیْہِ فَقَدْ مَاتَ مَکْفِیًّا بِمَا أَفَائَ اللَّہُ تَعَالَی عَلَیْہِ وَوَجْہُ ہَذِہِ الأَحَادِیثِ عِنْدِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّہُ اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَۃِ الْفَقْرِ وَالْمَسْکَنَۃِ الَّذِینَ یَرْجِعُ مَعْنَاہُمَا إِلَی الْقِلَّۃِ کَمَا اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَۃِ الْغِنَی۔ [ضعیف جداً]
(١٣١٥٢) (الف) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے اللہ ! مجھے مسکینوں کے ساتھ زندہ رکھنا اور میری موت بھی مسکینوں کے ساتھ آئے اور قیامت والے دن مجھے اٹھانا بھی مسکینوں کے ساتھ۔ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا : کس لیے اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیونکہ یہ لوگ امیر لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اے عائشہ ! کسی مسکین کو نہ موڑ اگرچہ آدھی ہی کھجور کیوں نہ ہو، اے عائشہ ! مسکینوں سے محبت کر اور ان کے قریب ہو، بیشک اللہ تعالیٰ قیامت والے دن تجھے اپنے قریب کرے گا۔
(ب) ہمارے اصحاب کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فقر سے پناہ مانگی اور مسکین کا سوال کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گزر بسر کے لیے کچھ ہوتا جو کفایت کرے، یہ اس پر دلالت ہے کہ مسکین وہ ہے جس کے پاس کفایت کے لیے تھوڑا مال ہو۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں کہ حضرت انس (رض) کی جو روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسکینی اور فقر سے پناہ مانگی تو (اس سے یہ مراد لینا) جائز ہے کہ پناہ اس شرف والی حالت سے مانگی جائے جس کا ذکر اکثر احادیث میں ہے اور یہ وہ حالت جس میں اللہ سے اس پر زندگی اور موت کا سوال ہے اور یہ جائز نہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سوال کرنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حالت کے مخالف ہے جس پر آپ فوت ہوئے، آپ کو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفایت کرتا تھا۔ میرے نزدیک ان احادیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے فقر اور مسکینی کے فقر سے پناہ مانگی یعنی قلت سے پناہ مانگی جیسا کہ غنی کے فتنہ سے پناہ مانگی۔ واللہ اعلم