(۱۳۱۵۳) وَذَلِکَ بَیِّنٌ فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُتَعَوَّذُ یَقُولُ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ النَّارِ وَفِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَشَرِّ فِتْنَۃِ الْغِنَی وَشَرِّ فِتْنَۃِ الْفَقْرِ اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَہَذَا حَدِیثٌ ثَابِتٌ قَدْ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ۔
وَفِیہِ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ إِنَّمَا اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَۃِ الْفَقْرِ دُونَ حَالِ الْفَقْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْغِنَی دُونَ حَالِ الْغِنَی
وَأَمَّا قَوْلُہُ إِنْ کَانَ قَالَہُ أَحْیِنِی مِسْکِینًا وَأَمِتْنِی مِسْکِینًا فَہُوَ إِنْ صَحَّ طَرِیقُہُ وَفِیہِ نَظَرٌ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَیْہِ حَالُہُ عِنْدَ وَفَاتِہِ أَنَّہُ لَمْ یَسْأَلْ حَالَ الْمَسْکَنَۃِ الَّتِی یَرْجِعُ مَعْنَاہَا إِلَی الْقِلَّۃِ وَإِنَّمَا سَأَلَ الْمَسْکَنَۃَ الَّتِی یَرْجِعُ مَعْنَاہَا إِلَی الإِخْبَاتِ وَالتَّوَاضُعِ فَکَأَنَّہُ -ﷺ- سَأَلَ اللَّہَ تَعَالَی أَنْ لاَ یَجْعَلَہُ مِنَ الْجَبَّارِینَ الْمُتَکَبِّرِینَ وَأَنْ لاَ یَحْشُرَہُ فِی زُمْرَۃِ الأَغْنِیَائِ الْمُتْرَفِینَ۔
قَالَ الْقُتَیْبِیُّ وَالْمَسْکَنَۃُ حَرْفٌ مَأْخُوذٌ مِنَ السُّکُونِ یُقَالُ تَمَسْکَنَ الرَّجُلُ إِذَا لاَنَ وَتَوَاضَعَ وَخَشَعَ وَمِنْہُ قَوْلُ النَّبِیِّ -ﷺ- لِلْمُصَلِّی : تَبَائَ سُ وَتَمَسْکَنُ ۔ یُرِیدُ تَخَشَّعْ وَتَوَاضَعْ لِلَّہِ۔ [بخاری ۸۳۳۔ مسلم ۵۸۹]
(١٣١٥٣) (الف) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پناہ مانگتے تھے، فرماتے : ” اے اللہ ! میں آگ کے فتنے سے اور قبر کے فتنے سے اور عذاب کے فتنے سے اور غنیٰ کے فتنے اور فقر کے فتنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ ! میں دجال کے شر کے فتنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
(ب) اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ فتنہ فقر سے پناہ حالت فقر سے پناہ ہے اور غنیی سے پناہ حالت غنی سے پناہ ہے۔
(ج) رہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ کہنا : ” مجھے مسکین زندہ رکھنا اور مجھے موت مسکین کی حالت میں دینا “ اگرچہ اس کی سند صحیح ہے، لیکن اس میں اختلاف ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حالت جو وفات کے وقت تھی، اس پر دال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مسکینی کا سوال نہیں کیا جس کا معنی قلت ہے بلکہ جس سے مراد عجز و انکساری اور تواضع و انکساری ہے اس کا سوال کیا، جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ظالم متکبر لوگوں میں سے نہ کرے اور نہ قیامت کے دن سرکش اغنیا میں اٹھائے۔