(۱۳۱۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَہَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لِغَنِیٍّ إِلاَّ لِخَمْسَۃٍ لِغَازٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوْ لِعَامِلٍ عَلَیْہَا أَوْ لِغَارِمٍ أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاہَا بِمَالِہِ أَوْ رَجُلٍ کَانَ لَہُ جَارٌ مِسْکِینٌ فَتُصُدِّقَ عَلَی الْمِسْکِینِ فَأَہْدَی الْمِسْکِینُ لِلْغَنِیِّ ۔ أَرْسَلَہُ مَالِکٌ وَابْنُ عُیَیْنَۃَ وَأَسْنَدَہُ مَعْمَرٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ۔
[ضعیف۔ احمد ۱۱۵۵۹،ابوداوٗد ۱۹۳۶]
(١٣١٦٦) عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مال دار کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے مگر پانچ مال دار بھی صدقہ لے سکتے ہیں : 1 غازی فی سبیل اللہ 2 عامل صدقہ لینے والا 3 چٹی والا آدمی 4 کسی آدمی نے اپنے پیسوں سے صدقہ کی چیز خریدی ہو 5 ۔ کسی آدمی کا پڑوسی غریب تھا، اس نے اس کو صدقہ کیا۔ پھر اس غریب آدمی نے صدقہ کرنے والے کو ہدیہ دے دیا۔