(۱۳۱۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا عِیسَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْغَافِقِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَیْرَ بْنَ الأَشَجِّ حَدَّثَہُ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ ابْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ قَدِمَ بِصَدَقَاتٍ سَعَی عَلَیْہَا فَلَمَّا قَدِمَ الْحَرَّۃَ خَرَجَ عَلَیْہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَرَّبَ إِلَیْہِ تَمْرًا وَلَبَنًا وَزُبْدًا فَأَکَلُوا وَأَبَی عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یَأْکُلَ
فَقَالَ ابْنُ أَبِی رَبِیعَۃَ : وَاللَّہِ أَصْلَحَکَ اللَّہُ إِنَّا لَنَشْرَبُ أَلْبَانَہَا وَنُصِیبُ مِنْہَا فَقَالَ : یَا ابْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ إِنِّی لَسْتُ کَہَیْئَتِکَ إِنَّکَ وَاللَّہِ تَتَّبِعُ أَذْنَابَہَا۔ [صحیح]
(١٣١٦٥) سیدنا سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ میرے والد صدقات کا مال لے کر چلے جن پر وہ عامل تھے۔ جب حرہ نامی جگہ پہنچے تو سیدنا عمر بن خطاب (رض) بھی وہاں تھے، انھوں (میرے والد) نے کھجور، دودھ اور مکھن ان کے قریب کیا، دوسروں نے کھایا اور حضرت عمر (رض) نے کھانے سے انکار کیا۔ ابن ابی ربیعہ نے کہا : ” اللہ تعالیٰ تمہاری اصلاح کرے، ہم ان کا دودھ پیتے ہیں اور ان سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا :” اے ابن ابی ربیعہ ! میں تمہاری طرح نہیں ہوں، اللہ کی قسم ! آپ تو ان کی دموں کے پیچھے چلتے ہو۔ “ (یعنی ان کی دیکھ بھال کرتے ہو) ۔