(۱۳۱۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ أُنَاسٍ مِنْ آلِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ صَفْوَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : یَا صَفْوَانُ ہَلْ عِنْدَکَ سِلاَحٌ ۔ قَالَ : عَارِیَۃً أَمْ غَصْبًا۔ قَالَ : بَلْ عَارِیَۃً ۔
قَالَ فَأَعَارَہُ مَا بَیْنَ الثَّلاَثِینَ إِلَی الأَرْبَعِینَ دِرْعًا وَغَزَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حُنَیْنًا فَلَمَّا ہَزَمَ الْمُشْرِکِینَ جُمِعَتْ دُرُوعُ صَفْوَانَ فَفَقَدَ مِنْہَا أَدْرَاعًا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- لِصَفْوَانَ : إِنَّا قَدْ فَقَدْنَا مِنْ أَدْرَاعِکَ أَدْرَاعًا فَہَلْ نَغْرَمُ لَکَ؟ ۔ قَالَ : لاَ یَا رَسُولَ اللَّہِ لأَنَّ فِی قَلْبِی الْیَوْمَ مَا لَمْ یَکُنْ یَوْمَئِذٍ۔ [ضعیف]
(١٣١٨٤) آل عبدالرحمن بن صفوان سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے صفوان ! کیا تیرے پاس اسلحہ ہے ؟ صفوان نے کہا : ” عاریتاً یا مستقل طور پر۔ آپ نے فرمایا : ادھار۔ فرماتے ہیں : میں نے ادھار میں چالیس اور تیس کے درمیان ذرعیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ حنین کیا، جب مشرکین کو شکست ہوئی تو صفوان کی ذرعوں کو جمع کیا گیا، کچھ ذرعیں گم ہوگئیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے صفوان ! تیری ذرعیں ہم سے گم ہوگئیں ہیں، ہم پر کوئی چٹی وغیرہ ہے ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! نہیں، اس لیے کہ آج میرے دل میں وہ چیز نہیں جو اس دن تھی۔