hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13188

.

سنن البيهقي

13188
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۱۸۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالُوا حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی نُعْمٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الخُدْرِیِّ قَالَ : بَعَثَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ بِالْیَمَنٍ بِذَہَبَۃٍ بِتُرْبَتِہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَسَمَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَ أَرْبَعَۃِ نَفَرٍ : الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِیِّ وَعُیَیْنَۃَ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِیِّ وَعَلْقَمَۃَ بْنِ عُلاَثَۃَ الْعَامِرِیِّ أَحَدِ بَنِی کِلاَبٍ وَزَیْدِ الخَیْلِ الطَّائِیِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِی نَبْہَانَ فَغَضِبَتْ صَنَادِیدُ قُرَیْشٍ فَقَالَتْ : یُعْطِی صَنَادِیدَ نَجْدٍ وَیَدَعُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنِّی إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِکَ لأَتَأَلَّفَہُمْ ۔ فَجَائَ رَجُلٌ کَثُّ اللِّحْیَۃِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَیْنِ غَائِرُ الْعَیْنَیْنِ نَاتِئُ الْجَبِینِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ : اتَّقِ اللَّہَ یَا مُحَمَّدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ إِنْ عَصَیْتُہُ یَأْمَنُنِی عَلَی أَہْلِ الأَرْضِ وَلاَ تَأْمَنُونِی ۔ ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِی قَتْلِہِ یُرَوْنَ أَنَّہُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ ہَذَا قَوْمًا یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ لاَ یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ یَقْتُلُونَ أَہْلَ الإِسْلاَمِ وَیَدَعُونَ أَہْلَ الأَوْثَانِ یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ لَئِنْ أَدْرَکْتُہُمْ لأَقْتُلَنَّہُمْ قَتْلَ عَادٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَنَّادِ بْنِ السَّرِیِّ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ۔ [صحیح۔ بخاری، مسلم۹۰]
(١٣١٨٣) ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیجا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو چار بندوں میں تقسیم کیا، اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن حصن غزاری، علقمہ بن ملاثۃ عامری اور زید خیل طائی میں تو قریش کے سردار ناراض ہوگئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ نجد والوں کو دیتے ہیں لیکن ہم کو محروم کردیا ہے ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ میں نے اس لیے کیا ہے تاکہ ان کی دل جوئی ہوجائے۔ ایک آدمی آیا جو گھنی داڑھی والا، پھولے ہوئے گال والا، دھنسی ہوئی آنکھوں والا، اٹھی ہوئی پیشانی والا، گنجے سر والا تھا۔ اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ سے ڈرو۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں اللہ کی نافرمانی کرتا ہوں تو اس کی اطاعت کون کرتا ہے ؟ اس نے مجھ کو زمین پر امین بنایا تم مجھے امین نہیں مانتے، پھر وہ آدمی چلا گیا۔ قوم میں سے ایک آدمی نے اجازت طلب کی کہ میں اس کو قتل کردوں اور شاید وہ آدمی خالد بن ولید تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اس کی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن یہ ان کی ہنسلیوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ اہل اسلام کو وہ قتل کریں گے اور بت پرستوں کو وہ دعوت دیں گے اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے ان لوگوں کو پا لیا تو میں ان کو قوم عاد کی طرح ضرور قتل کردوں گا۔