فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ قَالَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَلِلْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوبُہُمْ فِی قَسْمِ الصَّدَقَاتِ سَہْمٌ وَالَّذِی أَحْفَظُہُ مِنْ مُتَقَدِّمِ الْخَبَرِ : أَنَّ عَدِیَّ بْنَ حَاتِمٍ جَائَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَحْسِبُہُ قَالَ بِثَلاَثِمِائَۃٍ مِنَ الإِبِلِ مِنْ صَدَقَاتِ قَوْمِہِ فَأَعْطَاہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْہَا ثَلاَثِینَ بَعِیرًا وَأَمَرَہُ أَنْ یَلْحَقَ بِخَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ بِمَنْ أَطَاعَہُ مِنْ قَوْمِہِ فَجَائَ ہُ بِزُہَائِ أَلْفِ رَجُلٍ وَأَبْلَی بَلاَئً حَسَنًا۔ وَلَیْسَ فِی الْخَبَرِ مِنْ أَیْنَ أَعْطَاہُ إِیَّاہَا غَیْرَ أَنَّ الَّذِی یَکَادُ أَنْ یَعْرِفَ الْقَلْبُ بِالاِسْتِدْلاَلِ بِالأَخْبَارِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّہُ أَعْطَاہُ إِیَّاہَا مِنْ سَہْمِ الْمُؤَلَّفَۃِ فَإِمَّا زَادَہُ لِیُرُغِّبَہُ فِیمَا صَنَعَ وَإِمَّا أَعْطَاہُ لِیَتَأَلَّفَ بِہِ غَیْرَہُ مِنْ قَوْمِہِ مِمَّنْ لاَ یَثِقُ بِہِ بِمِثْلِ مَا یَثِقُ بِہِ مِنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ فَأَرَی أَنْ یُعْطَی مِنْ سَہْمِ الْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوبُہُمْ فِی مِثْلِ ہَذَا الْمَعْنَی إِنْ نَزَلَتْ نَازِلَۃٌ بِالْمُسْلِمِینَ وَلَنْ تَنْزِلَ إِنْ شَائَ اللَّہُ۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ صدقات کی اقسام میں تالیف قلب کے لیے حصہ ہے، جس کو سب نے پچھلی حدیث سے یاد رکھا ہے کہ عدی بن حاتم، سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آئے، میرا گمان ہے کہ انھوں نے کہا : صدقات کے تین سو اونٹ اس کی قوم نے دیے ہیں تو ابوبکر (رض) نے انھیں تیس اونٹ دیے اور حکم دیا کہ انھیں سیدنا خالد بن ولید کے پاس لے جاؤ، چونکہ ان کی قوم نے نیا نیا اسلام قبول کیا ہے تو وہ ایک ہزار افراد کی ٹولی کے پاس کے پاس آئے۔ حدیث میں یہ وضاحت نہیں کہ انھوں نے کہاں سے دیے تو لگتا ہے کہ صرف احادیث سے استدلالات ہیں۔ واللہ اعلم۔ انھوں نے خاص مؤلفۃ قلوب والے حصے سے دیا اور انھیں زیادہ دیا، تاکہ ان کی اس میں رغبت زیادہ ہو۔ ان کے علاوہ دوسری قوم تالیفِ قلب کے لیے دیا؛ کیونکہ وہ قوم عدی بن حاتم (رض) کی قوم کی طرح پختہ مسلمان نہ تھی۔