(۱۳۱۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ رِئَابٍ عَنْ کِنَانَۃَ بْنِ نُعَیْمٍ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ الْمُخَارِقِ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- أَسْأَلُہُ فِی حَمَالَۃٍ فَقَالَ : إِنَّ الْمَسْأَلَۃَ حُرِّمَتْ إِلاَّ فِی ثَلاَثٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَۃً حَلَّتَ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یُؤَدِّیَہَا ثُمَّ یُمْسِکَ وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ جَائِحَۃٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَہُ حَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یُصِیبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ ثُمَّ یُمْسِکَ وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ حَاجَۃٌ أَوْ فَاقَۃٌ حَتَّی یَتَکَلَّمَ ثَلاَثَۃٌ مِنْ ذَوِی الْحِجَی مِنْ قَوْمِہِ لَقَدْ حَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ فَمَا سِوَی ذَلِکَ مِنَ الْمَسَائِلِ فَہُوَ سُحْتٌ۔ [صحیح]
(١٣١٩٣) قبیصہ بن مخارق فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تاکہ میں آپ سے اپنے قرض کے بارے میں سوال کروں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سوال کرنا حرام ہے، سوائے تین اشخاص کے : ایک وہ بندہ جس پر قرض کا بوجھ ہے اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے قرض کو ادا کرلے، پھر وہ سوال کرنے سے رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آگئی اور اس کا مال سارا تباہ ہوگیا اس کے لیے بھی سوال کرنا حلال ہے، یہاں تک کہ وہ آسودہ حال ہوجائے تو وہ سوال کرنے سے رک جائے۔ تیسرا وہ آدمی جس کو کوئی ضرورت پڑگئی ہو یا اس کو فاقہ پہنچا ہو اور تین معتبر افراد اس کی قوم میں سے گواہی دے دیں تو اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز ہے، اس کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے۔