hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13218

.

سنن البيهقي

13218
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۲۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِینِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِی رَبِیعَۃُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنِی أَبُو کَبْشَۃَ السَّلُولِیُّ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ الْحَنْظَلِیَّۃِ الأَنْصَارِیَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا مِسْکِینُ بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُہَاجِرٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِی کَبْشَۃَ السَّلُولِیِّ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ الْحَنْظَلِیَّۃِ قَالَ : قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ وَالأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَسَأَلاَہُ فَأَمَرَ لَہُمَا بِمَا سَأَلاَ وَأَمَرَ مُعَاوِیَۃَ أَنْ یَکْتُبَ لَہُمَا بِمَا سَأَلاَ قَالَ فَأَمَّا الأَقْرَعُ فَلَفَّ کِتَابَہُ فِی عِمَامَتِہِ وَانْطَلَقَ وَأَمَّا عُیَیْنَۃُ فَأَخَذَ کِتَابَہُ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ تَرَی أَنِّی حَامِلٌ إِلَی قَوْمِی کِتَابًا لاَ أَدْرِی مَا فِیہِ کَصَحِیفَۃِ مُتَلَمِّسٍ قَالَ فَأَخَذَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- فَنَظَرَ فِیہِ فَقَالَ : قَدْ کُتِبَ لَکَ بِالَّذِی أَمَرْتُ لَکَ بِہِ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَۃً وَہُو مِنْہَا غَنِیٌّ فَإِنَّمَا یَسْتَکْثِرُ مِنَ النَّارِ۔ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا الْغِنَی الَّذِی لاَ یَنْبَغِی مَعَہُ الْمَسْأَلَۃُ؟ قَالَ : أَنْ یَکُونَ لَہُ شِبَعُ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ أَوْ لَیْلَۃٍ وَیَوْمٍ ۔ وَلَیْسَ شَیْء ٌ مِنْ ہَذِہِ الأَحَادِیثِ بِمُخْتَلِفٍ وَکَأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- عَلِمَ مَا یُغْنِی کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ فَجَعَلَ غِنَاہُ بِہِ وَذَلِکَ لأَنَّ النَّاسَ یَخْتَلِفُونَ فِی قَدْرِ کِفَایَاتِہِمْ فَمِنْہُمْ مَنْ یُغْنِیہِ خَمْسُونَ دِرْہَمًا لاَ یُغْنِیہِ أَقُلُّ مِنْہَا وَمِنْہُمْ مَنْ یُغْنِیہِ أَرْبَعُونَ دِرْہَمًا لاَ یُغْنِیہِ أَقُلُّ مِنْہَا وَمِنْہُمْ مَنْ لَہُ کَسْبٌ یَدُرُّ عَلَیْہِ کُلَّ یَوْمٍ مَا یُغَدِّیہِ وَیُعَشِّیہِ وَلاَ عِیَالَ لَہُ فَہُوَ مُسْتَغْنٍ بِہِ۔ [صحیح]
(١٣٢١٢) سہل بن حنظلیہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس آئے، ان دونوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سوال کے مطابق دینے کا حکم دیا اور معاویہ کو حکم دیا کہ جو کچھ انھوں نے سوال کیا ہے، اس کو لکھ دو ۔ راوی کہتے ہیں کہ اقرع نے اپنے خط کو اپنے امامے میں لپیٹ لیا اور چلا گیا اور عیینہ نے اپنا خط پکڑا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا اور اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں یہ خط اپنی قوم کی طرف لے کر جانے والا ہوں اور میں بھی نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے۔
راوی کہتا ہے کہ اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پکڑا اور اس میں دیکھا اور فرمایا : اس میں وہ چیز لکھی گئی ہے جس کا میں نے تیرے لیے حکم دیا تھا۔
پھر لمبی حدیث ذکر کی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس بندے نے سوال کیا حالانکہ وہ اس چیز سے بے پروا ہے (یعنی اس کو ضرورت نہیں) تو وہ جہنم کی آگ کو اکٹھا کررہا ہے۔ صحابہ کرام (رض) نے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی ! غنیٰ کیا چیز ہے کہ بعد میں سوال کی گنجائش ہی نہ رہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ اس کے لیے سیر ہونا ایک دن اور رات یا ایک رات اور دن۔