(۱۳۲۳۷) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَہَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمُحَارِبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: بَعَثَنِی أَبِی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی إِبِلٍ أَعْطَاہُ إِیَّاہَا مِنَ الصَّدَقَۃِ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ہُوَ ابْنُ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا نَحْوَہُ زَادَ أَیْ بِبَدَلِہَا۔ فَہَذَا لاَ یَحْتَمِلُ إِلاَّ مَعْنَیَیْنِ۔ أَحَدُہُمَا أَنْ یَکُونَ قَبْلَ تَحْرِیمِ الصَّدَقَۃِ عَلَی بَنِی ہَاشِمٍ ثُمَّ صَارَ مَنْسُوخًا بِمَا مَضَی۔ وَالآخَرُ أَنْ یَکُونَ اسْتَسْلَفَ مِنَ الْعَبَّاسِ لِلْمَسَاکِینِ إِبِلاً ثُمَّ رَدَّہَا عَلَیْہِ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَۃِ فَقَدُ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الزَّکَاۃِ مَا دَلَّ عَلَی ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١٣٢٣٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بھیجا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اونٹ دے آؤں جو خاص صدقے کے تھے۔ اس میں دو معنوں کا احتمال ہے : 1 یہ بنو ہاشم کے لیے صدقہ کی حرمت سے پہلے تھا، پھر منسوخ ہوگیا 2 ممکن ہے انھوں نے مساکین سے حضرت عباس (رض) سے مستعار لیا ہو، پھر انھیں اونٹوں کے صدقہ میں دے دیا۔