(۱۳۲۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا سُوَیْدٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُشَیْرِیُّ وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ قَالُوا حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنِی حَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : قَالَ رَجُلٌ لأَتَصَدَّقَنَّ اللَّیْلَۃَ بِصَدَقَۃٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِہِ فَوَضَعَ فِی یَدِ زَانِیَۃٍ فَأَصْبَحَ النَّاسُ یَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَی زَانِیَۃٍ فَقَالَ اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی زَانِیَۃٍ لأَتَصَدَّقَنَّ اللَّیْلَۃَ بِصَدَقَۃٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِہِ فَوَضَعَہَا فِی یَدِ غَنِیٍّ فَأَصْبَحُوا یَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّیْلَۃَ عَلَی غَنِیٍّ فَقَالَ : اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی غَنِیٍّ لأَتَصَدَّقَنَّ اللَّیْلَۃَ بِصَدَقَۃٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِہِ فَوَضَعَہَا فِی یَدِ سَارِقٍ فَأَصْبَحُوا یَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّیْلَۃَ عَلَی سَارِقٍ فَقَالَ : اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی زَانِیَۃٍ وَعَلَی غَنِیٍّ وَعَلَی سَارِقٍ
فَأُتِیَ فَقِیلِ لَہُ : أَمَّا صَدَقَتُکَ فَقَدْ قُبِلَتْ أَمَّا الزَّانِیَۃُ فَلَعَلَّہَا تَسْتَعِفُّ بِہَا عَنْ زِنَاہَا وَلَعَلَّ الْغَنِیَّ یَعْتَبِرُ فَیُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاہُ اللَّہُ تَعَالَی وَلَعَلَّ السَّارِقَ یَسْتَعِفُّ بِہَا عَنْ سَرِقَتِہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِاللَّہِ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ سَعِیدٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ۔ وَفِی ہَذَا کَالدَّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّہُ وَرَدَ فِی صَدَقَۃِ التَّطَوُّعِ۔ [بخاری ۱۴۲۱۔ مسلم ۱۰۲۲]
(١٣٢٥٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک آدمی نے کہا کہ میں رات کو صدقہ کروں گا، وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک زانیہ عورت کو دے دیا، صبح کو لوگ یہ باتیں کرنے لگ گئے کہ زانیہ کو بھی صدقہ دیا جانے لگ گیا ہے، اس نے کہا : اے اللہ ! تیری طرف زانیہ کو صدقہ ؟ دوسری رات وہ صدقہ لے کر پھر نکلا اور ایک مال دار آدمی کو دے دیا، صبح کو لوگ پھر باتیں کرنے لگ گئے کہ غنی لوگوں کو بھی صدقہ دیا جارہا ہے، اس نے پھر کہا کہ اے اللہ ! تیری تعریف ! میرے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے، تیسری رات وہ پھر صدقہ لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں دے دیا، صبح کو پھر لوگوں نے باتیں کیں کہ رات کو چور کو صدقہ دیا گیا ہے تو اس نے کہا : اے اللہ ! تیری تعریف ! پہلے زانیہ کو پھر غنی کو اور پھر چور کو میں صدقے دے آیا ہوں، پھر اس کو بتایا گیا کہ تیرا صدقہ قبول ہوگیا ہے۔ جو زانیہ ہے ہوسکتا ہے وہ زنا سے باز آجائے اور مال دار بندہ ہوسکتا ہے کہ وہ عبرت سمجھ کر صدقہ دینا شروع کر دے اور ہوسکتا ہے کہ چور اس سے سبق حاصل کر کے چوری سے باز آجائے۔