(۱۳۲۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : مَا خُیِّرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی أَمْرَیْنِ إِلاَّ أَخَذَ أَیْسَرَہُمَا مَا لَمْ یَکُنْ إِثْمًا فَإِذَا کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِنَفْسِہِ إِلاَّ أَنْ تُنْتَہَکَ حُرْمَۃُ اللَّہِ فَیَنْتَقِمَ لِلَّہِ بِہَا۔
[صحیح۔ بخاری ۳۵۶۰۔ مسلم ۲۳۲۷]
(١٣٢٨٣) حضرت عائشہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو چیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیشہ آسان کو منتخب کیا، جب کہ اس میں کوئی برائی نہ ہو۔ اگر اس میں کوئی برائی ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی نسبت اس کام سے یا دور ہوتے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی انتقام نہیں لیا، اپنی ذات کے لیے سوائے اس کے کہ اللہ کی حرمت کو پامال کیا جا رہا ہو تو صرف اللہ کے لیے انتقام لیا ہے۔