hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13288

.

سنن البيهقي

13288
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۲۸۲) وَقَدْ کَتَبْنَاہُ مَوْصُولاً بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَیْفَہُ ذُو الْفَقَارِ یَوْمَ بَدْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَہُوَ الَّذِی رَأَی فِیہِ الرُّؤْیَا یَوْمَ أُحُدٍ وَذَلِکَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا جَائَ ہُ الْمُشْرِکُونَ یَوْمَ أُحُدٍ کَانَ رَأْیُہُ أَنْ یُقِیمَ بِالْمَدِینَۃِ فَیُقَاتِلَہُمْ فِیہَا فَقَالَ لَہُ نَاسٌ لَمْ یَکُونُوا شَہِدُوا بَدْرًا : تَخْرُجُ بِنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلَیْہِمْ نُقَاتِلُہُمْ بِأُحُدٍ وَرَجَوْا أَنْ یُصِیبُوا مِنَ الْفَضِیلَۃِ مَا أَصَابَ أَہْلُ بَدْرٍ فَمَا زَالُوا بِہِ حَتَّی لَبِسَ أَدَاتَہُ ثُمَّ نَدِمُوا وَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَقِمْ فَالرَّأْیُ رَأْیُکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: مَا یَنْبَغِی لِنَبِیٍّ أَنْ یَضَعَ أَدَاتَہُ بَعْدَ أَنْ لَبِسَہَا حَتَّی یَحْکُمَ اللَّہُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ عَدُوِّہُ ۔ قَالَ : وَکَانَ مِمَّا قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَئِذٍ قَبْلَ أَنْ یَلْبَسَ الأَدَاۃَ : إِنِّی رَأَیْتُ أَنِّی فِی دِرْعٍ حَصِینَۃٍ فَأَوَّلْتُہَا الْمَدِینَۃَ وَأَنِّی مُرْدِفٌ کَبْشًا فَأَوَّلْتُہُ کَبْشَ الْکَتِیبَۃِ ، وَرَأَیْتُ أَنَّ سَیْفِی ذَا الْفَقَارِ فُلَّ فَأَوَّلْتُہُ فَلاًّ فِیکُمْ وَرَأَیْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللَّہُ خَیْرٌ فَبَقَرٌ وَاللَّہُ خَیْرٌ ۔ [بخاری ۳۸۶۰۔ مسلم ۲۳۲۷]
(١٣٢٨٢) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن ذوالفقار نامی تلوار کے ساتھ قتال کیا، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن خواب دیکھا، وہ یہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے احد والے دن جب مشرکین آئے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر ان سے لڑائی کی جائے تو جو لوگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم ان سے باہر نکل کر قتال کریں گے، انھیں امید تھی کہ وہ بدر والوں کی فضیلت حاصل کرلیں گے، انھوں نے اصرار کیا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگی لباس پہن لیا، پھر ان لوگوں کو ندامت ہوئی اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! فیصلہ درحقیقت وہی ہے جو آپ کا فیصلہ ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، کسی نبی کی شان نہیں کہ وہ جنگی لباس پہننے کے بعد اتار دے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے جنگی ہتھیار پہننے سے پہلے کہا : میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک مضبوط قلعے میں ہوں، میں اس کی تعبیر یہ لی ہے کہ مدینہ شہر ہے، پھر میں نے دیکھا کہ میں بڑے پتھر کے پیچھے ہوں تو میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ ایک بڑی فوج کا دستہ ہے، میں نے اپنی تلوار ذوالفقار دیکھی کہ اس میں دندانے پڑگئے ہیں تو تم میں کوئی خرابی ہوگی، بعد میں گائے ذبح ہوتے دیکھی، گائے اللہ کی بھلائی ہے دوسری مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر یہی کہا۔