(۱۳۲۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُؤْتَی بِالرَّجُلِ أَظُنُّہُ عَلَیْہِ الدَّیْنُ فَیَسْأَلُ : ہَلْ تَرَکَ لِدَیْنِہِ مِنْ قَضَائٍ ۔ فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّہُ تَرَکَ وَفَائً صَلَّی عَلَیْہِ وَإِلاَّ قَالَ : صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ ۔ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ الْفُتُوحَ قَالَ : أَنَا أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ فَمَنْ تُوُفِّیَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَعَلَیَّ قَضَاؤُہُ وَمَنْ تَرَکَ مَالاً فَلِوَرَثَتِہِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یُونُسَ۔
[بخاری، مسلم ۱۶۱۹]
(١٣٢٩٧) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی کو لایا جاتا (یعنی میت) (راوی کہتا ہے کہ میرا خیال ہے قرض دار آدمی کو) تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھتے : اس نے کوئی چیز چھوڑی کہ اس کا قرض ادا کیا جاسکے ؟ اگر بتایا جاتا ہے کہ اس نے مال وغیرہ چھوڑا ہے تو آپ نماز جنازہ پڑھ دیتے اور اگر کوئی چیز نہ ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام (رض) کو فرماتے اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھو، جب بہت زیادہ فتوحات ہونے لگیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں مومنین کا ان کی جانوں سے زیادہ حق دار ہوں جو بندہ فوت ہوجائے اور اس پر قرض ہو تو میں اس کو ادا کروں گا، جو بندہ مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے۔