(۱۳۲۹۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الإِمَامُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِی أَبِی عَنِ الْہُذَیْلِ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ سُلَیْمَانَ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلاَ السَّیِّئَۃُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ} وَذَلِکَ أَنَّ أَبَا جَہْلٍ لَعَنَہُ اللَّہُ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ -ﷺ- وَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- لَہُ مُبْغِضًا یَکْرَہُ رُؤْیَتَہُ فَأَمَرَہُ اللَّہُ تَعَالَی بِالْعَفْوِ وَالصَّفْحِ یَقُولُ فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِکَ {فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَۃٌ} یَعْنِی أَبَا جَہْلٍ {کَأَنَّہُ وَلِیٌّ} فِی الدُّنْیَا {حَمِیمٌ} لَکَ فِی النَّسَبِ الشَّفِیقُ عَلَیْکَ
وَقَالَ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ السَّیِّئَۃَ} نَزَلَتْ فِی النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَبِی جَہْلٍ حِینَ جَہِلَ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ-۔[ضعیف جداً]
(١٣٢٩٨) { وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلاَ السَّیَِّٔۃُادْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ } ابوجہل (اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے) وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دیتا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو ناپسند کرتے تھے تو اللہ پاک نے اپنے نبی کو یہ حکم دیا کہ صبر اور درگزر کرو ۔ فرمایا : جب آپ یہ کرلیں گے تو ” وہ شخص جس کے اور آپ کے درمیان دشمنی ہے “ یعنی ابوجہل وہ آپ کا دنیا میں دوست بن جائے گا اور حمیم ہوگا یعنی آپ کے نسب کا خیال کر کے آپ پر شفقت کرے گا۔