(۱۳۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ ابْنُ لَہِیعَۃَ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَکَمِ الْبَلَوِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ عُلَیَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِیَّ یُخْبِرُ أَنَّ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ الْجُہَنِیَّ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِفَتْحٍ مِنَ الشَّامِ وَعَلَیَّ خُفَّانِ لِی جُرْمُقَانِیَّانِ غَلِیظَانِ ، فَنَظَرَ إِلَیْہِمَا عُمَرُ فَقَالَ: کُمْ لَکَ مُنْذُ لَمْ تَنْزِعْہُمَا؟ قَالَ قُلْتُ: لَبِسْتُہُمَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْیَوْمُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ ثَمَانٍ۔ قَالَ: أَصَبْتَ۔
وَرَوَاہُ مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ وَقَالَ فِیہِ: أَصَبْتَ السُّنَّۃَ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن ماجہ ۵۵۸]
(١٣٣٣) (الف) عقبہ بن عامرجہنی فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب (رض) کے پاس شام کے فتح کی خبر لے کر آیا تو میں نے موزے اور موٹے جو موق پہنے ہوئے تھے۔ عمر (رض) نے ان کی طرف دیکھا اور پوچھا کتنی مدت سے تو نے انھیں نہیں اتارا ؟ میں نے کہا : میں نے جمعہ کے دن سے پہنے ہوئے ہیں اور جمعہ کا دن آٹھواں دن ہے۔ انھوں نے کہا : تو نے (سنت کو) پا لیا ہے۔
(ب) یزید بن أبی حبیب سے روایت ہے اور اس روایت میں ہے ” تو نے سنت کو پالیا ہے۔ “