(۱۳۳۴) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَکَمِ الْبَلَوِیِّ عَنْ عُلَیِّ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عُمَرَ مِثْلَہُ وَقَالَ: أَصَبْتَ السُّنَّۃَ۔
وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ التَّوْقِیتَ ، فَإِمَّا أَنْ یَکُونَ رَجَعَ إِلَیْہِ حِینَ جَائَہُ الثَّبَتُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی التَّوْقِیتِ ، وَإِمَّا أَنْ یَکُونَ قَوْلُہُ الَّذِی یُوَافِقُ السُّنَّۃَ الْمَشْہُورَۃَ أَوْلَی۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ لاَ یُوَقِّتُ فِیہِ وَقْتًا۔ [صحیح لغیرہٖ]
(١٣٣٤) (الف) سیدنا عمر (رض) اسی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں : تو نے سنت کو پا لیا ہے۔
(ب) ہم نے سیدنا عمر بن خطاب (رض) سے مسح کی مدت بیان کی ہے۔ ان کا مؤقف وہی ہے جو سنت سے ثابت ہے اور ان کا قول سنت مشہورہ سے موافق ہونا اولیٰ ہے۔ (ج) ابن عمر (رض) سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ مدت مقرر نہیں کرتے تھے۔