(۱۳۳۳۷) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِیِّ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ قَالَ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- { ہَلْ أَتَی عَلَی الإِنْسَانِ حِینٌ مِنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَذْکُورًا } حَتَّی خَتَمَہَا ثُمَّ قَالَ : إنِّی لأَرَی مَا لاَ تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لاَ تَسْمَعُونَ أَطَّتِ السَّمَائُ وَحُقَّ لَہَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِیہَا قَدْرُ مَوْضِعِ إِصْبَعٍ إِلاَّ مَلَکٌ وَاضِعٌ جَبْہَتَہُ سَاجِدًا لِلَّہِ وَاللَّہِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیلاً وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیرًا وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَائِ عَلَی الْفُرُشِ وَلَخَرَجْتُمْ إِلَی الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَی اللَّہِ تَعَالَی۔ وَاللَّہِ لَوَدِدْتُ أَنِّی شَجَرَۃٌ تُعْضَدُ فَقَالَ : إِنَّ قَوْلَہُ وَاللَّہِ لَوَدِدْتُ أَنِّی شَجَرَۃٌ تُعْضَدُ مِنْ قَوْلِ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف]
(١٣٣٣٧) ابوذر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا : { ہَلْ أَتَی عَلَی الإِنْسَانِ حِینٌ مِنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَذْکُورًا } یہاں تک کہ سورت ختم کردی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں وہ چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان چرچراتا اور اس کا حق ہے کہ وہ چرچرائے اور آسمان میں ایک انگلی کے برابر بھی جو جگہ ہے وہاں فرشتہ اپنی جبین کو سجدے میں رکھے ہوئے ہے، اللہ کی قسم ! اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو گے اور زیادہ رؤ و گے اور جو تم بستروں پر عورتوں سے لذت حاصل کرتے ہو تو تم جنگلوں کی طرف نکل جاؤ گے اور اللہ سے پناہ مانگو گے۔ راوی فرماتے ہیں : کاش ! میں درخت ہوتا اور کاٹ دیا جاتا۔ یہ ابوذر (رض) کے الفاظ ہیں۔